سیر روحانی — Page 457
۴۵۷ تو درحقیقت شرک جہاں ایک گندی چیز ہے، شرک جہاں ایک نا پاک چیز ہے وہاں وہ نفس گنہگار کے لئے ایک ضروری چیز بھی ہے جس کے بغیر اس کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔جس طرح مسلمان گنہگار کا شفاعت کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا ، اسی طرح غیر مسلمان کا شرک کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا ، مسلمان بھی یہی کہتا ہے۔مستحق شفاعت گنہگار انم چلو چھٹی ہو گئی۔شفاعت کے ہوتے ہوئے اب کسی عمل کی کیا ضرورت ہے؟ پس اس قسم کی شفاعت اور اس قسم کا کفارہ دنیا سے مٹے گا نہیں ، تھوڑا بہت قیامت تک ضرور رہے گاور نہ گنہگار کا ہارٹ نہ فیل ہو جائے۔اس کے دل کو تسلی دلانے اور اُس کی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے یہ لازمی چیز ہے کہ کوئی نہ کوئی سہارا ہو۔جس طرح انسان بیہوش ہونے لگے تو پتھر پر سہارا لے لیتا ہے اسی طرح مسلمان شفاعت کے پتھر پر ہاتھ رکھ کر سہارا لے لیتا ہے اور عیسائی کفارہ کے پتھر پر سہارا لے لیتا ہے۔شرک کی مضرتوں سے دنیا کو محفوظ رکھنے کا حکم پس چوتھے معنے اس کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تو شرک کو مٹائے گا اور وہ بہت کچھ مٹے گا لیکن پھر بھی کسی نہ کسی شکل میں وہ دنیا میں قائم رہے گا کیونکہ شرک ایک لازمی چیز ہے پھر اس کے لئے کیا کرنا چاہئے۔اس کے لئے فرماتا ہے تو شرک کو باندھ دے یعنی جب ایک ضرر نے موجود رہنا ہے اور خدا تعالیٰ نے دنیا کو ایسی شکل میں پیدا کیا ہے کہ گنہگار کے ساتھ شرک نے قائم رہنا ہے تو پھر مؤمنوں کو اُس کے ضرر سے کس طرح بچایا جائے۔اس کا طریق یہی ہے کہ جس چیز نے قائم رہنا ہو اس کے ضرر کو کم کر دیا جاتا ہے مثلاً بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کے متعلق ڈاکٹر کہتے ہیں انہوں نے ہٹنا نہیں۔ایسی بیماریوں کا علاج یہ ہوتا ہے کہ انہیں کسی دوا سے دبا دیا جاتا ہے مثلاً کھانسی آتی ہے تو اوپیم دے دی بلغم دبا رہا۔شرک کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شرک بیشک مٹے گا مگر جو باقی رہے گا اسے اس طرح باندھ دو کہ وہ دوڑ کو دکر دنیا میں پھیل نہ سکے اور اس کی مضرت باقی نہ رہے۔ایک داعی الی الخیر جماعت اس کا طریق یہ بتایا کہ مؤمنوں کی جماعت اسلام میں قائم رہے جو شرک کے خلاف لوگوں کو کہتی رہے اور دلائل دیتی رہے تا کہ لوگ جب شرک کی طرف مائل ہونے لگیں تو انذار وتخویف اور حقیقت کے