سیر روحانی — Page 450
۴۵۰ بدظنی نہیں کرنی ، ۳۶ بغض اور کینہ دل میں نہیں رکھنا ہے سے گویا دماغ اور خیالات کی پاکیزگی بھی آپ نے قائم کی اور حکم دیا کہ کسی قسم کے بد خیالات اور بدارا دے تم نے نہیں رکھنے۔قلب کی صفائی کا حکم پھر قلب کی صفائی کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ نے محبت خالص کا حکم دیا ، نفاق سے روکا، سچے تعلقات اور وفاداری پر زور دیا۔۳۸ زبان کی صفائی کا حکم پھر زبان کی صفائی کا حکم دیا فرما یا گالی گلوچ نہیں کرنی ، سخت الفاظ نہیں بولنے ، دوسرے سے محبت کے ساتھ پیش آنا ہے۔۳۹ منہ کی صفائی کا حکم پھر منہ کی صفائی ہے منہ کی صفائی کے لئے مسواک کا حکم دیا بلکہ یہاں تک فرمایا کہ فرشتے نے منہ کی صفائی کے متعلق اتنا زور دیا کہ میں نے سمجھا شاید فرض ہو جائے۔پھر فرمایا میں ہر نماز کے لئے مسواک اس لئے ضروری قرار نہیں دیتا کہ کہیں میرے حکم کے بعد خدا اس کو فرض قرار نہ دیدے۔۴۰ عظیم الشان تغییر یہ کتنا عظیم الشان تغیر ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہوا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی دنیا دیکھو، پہلی تاریخیں پڑھو، ہندوؤں کی تاریخیں پڑھو، عیسائیوں کی تاریخیں پڑھو، یہودیوں کی تاریخیں پڑھو وہ غلاظت کا ٹوکرا معلوم ہوتی ہیں۔اس کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو دیکھو یہاں بڑا بزرگ تو الگ رہا جو چھوٹے سے چھوٹا بزرگ تھا وہ بھی پاکیزہ اور صاف ستھرا اور نہایا دھویا ہؤ انظر آتا ہے۔گندگی اور غلاظت کے ساتھ خدانہیں ملتا اب ان معنوں کے لحاظ سے وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ وَالرُّجُزَ فَاهْجُرُ کے یہ معنے بنتے ہیں کہ اے ہمارے گورنر ! جو یہ پتہ لگتے ہی کہ ہم اس کو ایک اہم کام سپرد کرنے لگے ہیں وردی پہن کر گھوڑے کے پاس تیار کھڑا ہو گیا ہے کہ چھلانگ لگا کر سوار ہو جاؤں دائمی طور پر اپنے کام میں لگ جا اور دنیا کو ہوشیار کر اور پہلے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی اصلاح کر ، پھر باقی دنیا کی اصلاح کا فرض سرانجام دے اور ہر قسم کی صفائی دنیا میں قائم کر اور لوگوں کو بتا کہ گندگی اور غلاظت کے ساتھ خدا نہیں ملتا بلکہ انسان کا ذہن گند ہو جاتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے دُور ہو جاتا ہے۔رجز کے دوسرے معنوں کے لحاظ سے آیت کی تشریح اب ہم اس آیت کو دوسرے معنوں کے لحاظ