سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 900

سیر روحانی — Page 449

۴۴۹ چیزیں کھائے وہ ان کی نگاہ میں بزرگ نہیں ہو سکتا تھا۔یہ تو حضرت خلیفہ اول کا واقعہ ہے جو تہذیب سے بات کرتے تھے ہمارے ایک اور دوست تیز زبان تھے اور مذاقیہ طبیعت کے تھے امرتسر کے رہنے والے تھے ان کے جواب ہمیشہ اسی طرز کے ہوا کرتے تھے۔ان کو کوئی ہندو مجسٹریٹ مل گیا اور کہنے لگا کیا ہے تمہارا مرزا تم کہتے ہو وہ خدا کاماً مور ہے اور یہ ہے اور وہ ہے ہم نے سنا ہے کہ وہ بادام اور پستہ اور مُرغ سب چیزیں کھا لیتا ہے۔وہ کہنے لگے آپ مرزا صاحب کو چڑانے کے لئے پاخانہ کھایا کریں مجھے اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔غرض اس نے اپنے رنگ میں جیسے اس کا اپنا مذاق اور علم تھا جواب دید یا تو بات یہ ہے کہ دنیا میں بزرگی کا نقشہ یہی کچھ رہ گیا تھا کہ انسان غلیظ اور گندہ ہو۔مکان کی صفائی کے متعلق ارشادات اسی طرح مکان کی صفائی بھی کوئی ضروری نہیں ی جاتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان کی صفائی کا بھی حکم دیا اسے چنانچہ آپ نے مسجد کی صفائی کے متعلق کئی احکام دیئے (اصل مکان جو آپ کے قبضہ میں تھا وہ وہی تھا آپ نے فرمایا مسجد کو صاف رکھو اس میں جھاڑو دیا کرو، اس میں خوشبوئیں جلایا کرو تا کہ وہ صاف رہے۔۳۲ راستوں کی صفائی کا حکم اسی طرح راستوں کی صفائی کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا آپ نے فرمایا اس شخص کو ثواب ملتا ہے جو راستہ میں سے پتھر وغیرہ اٹھا دے۔کے پاخانہ کے متعلق فرمایا کہ جوشخص راستہ میں پاخانہ پھرتا ہے اس پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہے ، اسے جو شخص کھڑے پانی میں پیشاب کرتا ہے اس پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہے۔جو شخص راستہ سے پتھر یا کانٹوں کو ہٹا دیتا ہے یا گندی چیزوں کو ہٹا دیتا ہے اسے ثواب ملتا ہے۔اگر کوئی مسجد میں تھوک بیٹھے تو فرمایا وہ اسے وہاں سے اُٹھا کر مٹی میں دفن کر دے۔۳۵ غرض اتنے احکام ہیں صفائی کے کہ اس تہذیب یافتہ زمانہ میں بھی ہمارا ملک کم سے کم ان پر عمل نہیں کر رہا۔یہ طہارت اور نظافت کے احکام ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں قائم ہوئے۔افکار کی صفائی کے متعلق ہدایات پھر آپ نے کہا کہ افکار کی صفائی بھی ضروری ہے گویا آپ نے ہر ایک چیز کی صفائی کا حکم دیا ہے صرف جسم کومل مل کر دھونے کا حکم نہیں مثلاً فکر ہے اس کی صفائی کا بھی آپ نے حکم دیا فرمایا