سیر روحانی — Page 448
۴۴۸ جسم کی صفائی کے متعلق رسول کریم چنا نچہ حمد رسل اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جمعہ کو آؤ تو غسل کر کے آؤ ، مسجد میں آؤ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات تو پیاز کھا کر یا لہسن کھا کر نہ آؤ، تا کہ تمہارے منہ سے بدبو نہ آئے۔عطر لگا کر آؤ۔پھر انسان کے ساتھ شہوت لگی ہوئی ہے اسلام نے حکم دیا ہے کہ اس کے بعد غسل کیا جائے لوگ پوچھتے ہیں کہ غسل جنابت کا فائدہ کیا ہے؟ وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ غسل جنابت ہی ہے جو تمہیں پاکیزہ رکھتا ہے۔اب تم مجبور ہو جاتے ہو کہ غسل کرو اور اگر غسل جنابت نہیں کرتے تو بے دین سمجھے جاتے ہو۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر دنیا کی کایا پلٹ دی، مذہب کا نام غلاظت سمجھا جاتا تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہب کا نام صفائی رکھ دیا۔اسی طرح لباس کی صفائی کے متعلق آپ نے احکام دیئے کہ جمعہ کے دن نئے کپڑے یا ڈھلے ہوئے کپڑے پہن کر آؤ ، عیدوں پر تمہارے کپڑے دُھلے ہوئے ہوں ، غرض جسمانی صفائی پر آپ نے اتنا زور دیا کہ دنیا میں روحانیت کا جو نقشہ تھا اس کو بالکل بدل دیا۔پہلے گندے اور غلیظ آدمی کے متعلق کہتے تھے کہ یہ نیک ہے اب صاف اور پاکیزہ آدمی کو نیک کہتے ہیں کتنا بڑا تغیر ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا۔حضرت خلیفہ اول کا ایک واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو چونکہ سر میں چکر آنے کی مرض تھی آپ بادام روغن اور مشک کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول سناتے تھے کہ ایک دفعہ میں درس دے کر واپس آ رہا تھا کہ ایک ہندو جس کے مکانات میں بعد میں صدر انجمن احمدیہ کے دفتر بن گئے ( کیونکہ ہم نے وہ مکان خرید لیا تھا ) اور جو ریٹائر ڈ ڈپٹی تھا اپنے صحن میں بیٹھا ہو ا تھا مجھے دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا حکیم صاحب! ایک بات پوچھنی ہے آپ خفا تو نہیں ہونگے ؟ سنا؟ ہے کہ مرزا صاحب پلاؤ اور بادام روغن کھا لیتے ہیں، میں نے کہا ٹھیک ہے کھا لیتے ہیں حیران ہو کر کہنے لگا کیا یہ ٹھیک بات ہے؟ میں نے کہا ڈپٹی صاحب ہمارے مذہب میں پلاؤ اور بادام روغن جائز ہے۔کہنے لگا کیا فقراء کے لئے بھی جائز ہے؟ میں نے کہا ہاں ہمارے مذہب میں فقراء کو ی بھی پاک چیزیں کھانے کا حکم ہے۔اس پر وہ اچھا! کہہ کر واپس چلا گیا گویا جو طیب