سیر روحانی — Page 25
۲۵ اور قانون کی ترقی نے لے لی اور پارٹی سسٹم شروع ہو گیا اور اب بجائے اس کے کہ ہر انسان الگ الگ کام کرتا جیسے بندر اور سو راور گتے وغیرہ کرتے ہیں۔انسان نے مل کر کام کرنا شروع کر دیا اور نظام اور قانون کی ترقی شروع ہوئی۔یہ چار بڑے بڑے دور ہیں جو قرآن کریم سے معلوم ہوتے ہیں یعنی :- (۱) جمادی دور (۲) حیوانی دور (۳) عقل کا دور اور (۴) متمدن انسان کا دور۔ان کے درمیان اور بھی کڑیاں ہیں لیکن وہ حذف کر دی گئی ہیں۔اس تمہید کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انسانی دور دراصل وہی کہلا سکتا ہے جب کہ بشر نے عقل حاصل کی۔جب تک اسے عقل حاصل نہیں تھی وہ ایک حیوان تھا گو خدا کے مد نظر یہی تھا کہ وہ اسے ایک باشعور اور متمدن انسان بنائے مگر بہر حال جب تک اس میں عقل نہیں تھی وہ انسان نہیں کہلا سکتا تھا اُس وقت اس کی ایسی ہی حالت تھی جیسے ماں کے پیٹ میں بچہ ہوتا ہے۔اب ماں کے پیٹ میں جب بچہ ہوتا ہے تو وہ انسانی بچہ ہی ہوتا ہے گتا نہیں ہوتا مگر چونکہ اس میں ابھی بہت کچھ کمزوری ہوتی ہے اس لئے وہ کامل انسان بھی نہیں ہوتا۔اسی طرح انہیں انسانی شکل تو حاصل تھی مگر انسانیت کے کمالات انہوں نے حاصل نہیں کئے تھے اور نہ ابھی تک ان میں عقل پیدا ہوئی تھی۔انسان کہلانے کا وہ اُسی وقت مستحق تھا جب کہ اس نے عقل حاصل کی لیکن اس دور کی کو بھی حقیقی معنوں میں دور انسانیت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انسان کی کامل خصوصیت عقل نہیں بلکہ نظام اور قانون کے ماتحت زندگی بسر کرنا ہے اور یہی انسانی پیدائش کا مقصود ہے اسی لئے میں اصطلاحا عقل والے دور کو بشری دور اول کہوں گا اور نظام والے دور کو انسانی دور کہوں گا۔یعنی پہلے دور میں وہ صرف بشر تھا اور دوسرے دور میں بشر وانسان دونوں اُس کے نام تھے۔آدم سب سے پہلا کامل انسان تھا اس وقت تک جو مضمون بیان ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا عقلی دور دوحصوں میں منقسم تھا ایک حصہ تو وہ تھا کہ اس میں عقل تو تھی مگر انفرادی حیثیت رکھتی تھی حمد کی جس نے ترقی نہ کی تھی اور وہ اکیلے اکیلے یا جوڑوں کی صورت میں زندگی بسر کرتا تھا۔دوسرا دور وہ آیا جبکہ تمدنی جس ترقی کر گئی تھی اور وہ ایک قانون کے تابع ہونے کا اہل ہو گیا یعنی وہ اس بات کے لئے تیار ہو گیا کہ ایک قانون کے ماتحت رہے جب قانون یہ فیصلہ کر دے کہ کسی پر حملہ نہیں کرنا تو ہر ایک کا فرض ہو کہ کسی پر حملہ نہ کرے، جب قانون یہ فیصلہ کر دے کہ فلاں کو یہ سزا ملنی چاہئے تو اس کا