سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 900

سیر روحانی — Page 425

۴۲۵ آدم نے مختلف قسم کے افعال کا ارتکاب شروع کیا کسی نے خدا کو گالیاں دینی شروع کیں، کسی نے اس سے کھیل اور تمسخر شروع کیا، کسی نے نماز کا انکار کیا، کسی نے روزہ کا انکار کیا، کسی نے حج کا انکار کیا، کسی نے زکوۃ کا انکار کیا، کسی نے چوری کی کسی نے ڈاکہ ڈالا تو فرشتوں نے کانوں پر ہاتھ رکھے اور کہا کہ اس کے لئے یہ آدم ہی موزوں ہے ہم اس کے اہل نہیں اسی لئے قرآن کریم میں انسان کے متعلق ہی ظَلُومًا جَهُولًا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، فرشتوں نے کہا ہم ظَلُومًا جَهُولًا نہیں بن سکتے یہ آدمی ہی کی ہمت ہے وہ بیشک ظَلُومًا جَهُولًا بنتا پھرے۔پس سوال یہ نہیں تھا کہ وہ نئی تجلی کیا ہے جس کا آدم کے ساتھ تعلق ہے بلکہ سوال یہ تھا کہ آیا انسان ہی اس تجلی کا حامل ہو سکتا ہے؟ فرشتے نہیں ہو سکتے ؟ خدا تعالیٰ نے عملا تحتمی ظاہر کر کے دکھا دی اور فرشتوں نے مان لیا کہ ہم میں اس کی اہلیت نہیں لیکن آج ہزاروں سال کے بعد ایک انسان اُٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ فرشتے بیوقوف تھے اُن بیوقوفوں کو سوال کرنا آیا تھا جو اب سمجھنا نہیں آیا حالانکہ فرشتوں کا چُپ ہو جانا بتاتا ہے کہ فرشتوں کا یہ سوال تھا ہی نہیں کہ آپ ہمیں سکھاتے تو ی ہم بھی سیکھ جاتے بلکہ فرشتوں کا سوال یہ تھا کہ وہ کونسی تجلتی ہے جس کا حامل انسان ہو سکتا تھا ہم نہیں ہو سکتے تھے۔خدا کے بتانے یا نہ بتانے کا ذکر نہیں تھا بلکہ اس تجلی کے قابل وجود کا ذکر تھا۔روحانی در بارِ خاص کی بعض مخصوص کیفیات اب میں اس دربار کی بعض مخصوص کیفیات کا ذکر کرتا ہوں۔اوّل اس دربار میں بھی بادشاہ کے گر د کچھ درباری یعنی ملائکہ نظر آتے ہیں۔دوم وہ درباری گلی طور پر بادشاہ کے کمال علم کے قائل ہیں دُنیوی دربارِ خاص میں تو بسا اوقات کمانڈر سمجھتا ہے کہ بادشاہ اگر چھوٹی سے چھوٹی لڑائی کے لئے بھی جائے گا تو ہار جائیگا مگر اس دربار میں ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ بادشاہ جانتا ہے وہ میں نہیں جانتا۔سوم وہ اس سے زیادتی علم کے لئے بھی سوال کرتے رہتے ہیں گویا وہ صرف یہی نہیں جانتے کہ یہ ہر بات جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے بلکہ ان کے دل میں تڑپ ہوتی ہے کہ وہ کی زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرتے جائیں اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق اپنے آپ کو مقام تکمیل تک پہنچا ئیں۔فرشتہ اپنی ملکیت کے لحاظ سے کامل ہونا چاہتا ہے اور انسان اپنی انسانیت کے لحاظ سے کامل ہونا چاہتا ہے مگر ترقی بہر حال موجود ہے کیونکہ استاد موجود ہے جب تک استاد موجود رہے گا شاگرد اس سے نئی نئی چیزیں سیکھتا رہے گا۔