سیر روحانی — Page 411
۴۱۱ شہزادی سے مل کر بادشاہ کے خلاف منصوبہ کر رہا ہوتا تھا۔ادھر اعزا ز مل رہا ہوتا تھا اور اُدھر ساز باز جاری ہوتی تھی کہ اس کو مٹا دیا جائے۔ایک ہند و اخبار تھا اُس کا یہ طریق تھا کہ وہ بڑے بڑے لوگوں کے راز معلوم کر کے پھر کہانی کے طور پر ان کو شائع کیا کرتا تھا اور اس سلسلہ کا نام اس نے چوں چوں کا مربہ رکھا ہو ا تھا۔یہ سلسلہ مضامین اخبار عام میں بھی چھپتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس یہ اخبار آیا کرتا تھا۔اس میں ایک ریاست کا واقعہ لکھا تھا اُس وقت تو مجھے معلوم نہیں تھا بعد میں پتہ چلا کہ یہ کپورتھلہ کی ریاست کا واقعہ تھا۔کپورتھلہ کا راجہ جو پارٹیشن کے وقت تک زندہ تھا اب سُنا ہے فوت ہو چکا ہے کہا جاتا ہے کہ وہ راجہ کی اولاد میں سے نہیں تھا بلکہ اُس کا باپ ایک حج تھا جس کو میں نے بھی دیکھا ہے ( اصل راز کو اللہ بہتر جانتا ہے )۔میں ایک دفعہ کپورتھلہ گیا تو دوستوں نے مجھے دکھایا تھا وہ اُس وقت کسی کام کیلئے پیلیس میں آیا ہو ا تھا دوستوں نے بتایا کہ یہ شخص جو پھر رہا ہے راجہ کا باپ ہے۔میں نے پوچھا کہ باپ جب دربار میں آتا ہے تو راجہ کی کیا حالت ہوتی ہے؟ کہنے لگے وہ ہمیشہ کتراتا ہے اور جب بھی کوئی ایسا موقع آئے وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا لیتا ہے اور ملنے میں شرم اور ذلت محسوس کرتا ہے۔بہر حال اس اخبار میں یہ واقعہ لکھا تھا کہ پہلے زمانہ میں کپورتھلہ کے راجہ کی دورانیاں تھیں اور دونوں کے اولاد نہیں تھی۔وہ دونوں ایک دوسری سے رقابت رکھتی تھیں کچھ درباری ایک طرف تھے اور کچھ دوسری طرف۔جس نے ایک کی غیبت کرنی ہو وہ دوسری کے پاس چلا جاتا اور جس نے دوسری کی غیبت کرنی ہو وہ اس کے پاس آ جاتا۔یہ جھگڑے بڑھ گئے تو آخر ایک پارٹی کے لوگوں نے سوچا کہ کب تک راجہ اور کب تک را نیاں ، یہ مرا تو خبر نہیں انگریز کس کو لا کر بٹھا دیں، اس لئے کوئی ایسی تدبیر کرنی چاہئے کہ مستقل طور پر ہمارا دبدبہ قائم رہے۔یہ سوچ کر انہوں نے ایک رانی کو اپنے ساتھ ملایا اور اُسے سکھایا کہ وہ مشہور کر دے کہ مجھے حمل ہے۔چنانچہ وہ اس بات پر راضی ہو گئی اور تجویز یہ ہوئی کہ نویں مہینہ مشہور کر دیا جائے گا کہ بچہ پیدا ہو گیا ہے ادھر دو تین جگہ سے جن کے ہاں انہی دنوں میں بچے پیدا ہونے والے تھے وعدے لے لئے گئے کہ جس کے ہاں لڑکا پیدا ہو ا وہ اپنا لڑکا دے دیگا۔انہوں نے انتظام یہ کیا ہو ا تھا کہ جس دن بچہ پیدا ہو رانی فوراً بیمار بن کر بیٹھ جائے گی اور اس کی گود میں بچہ ڈال