سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 900

سیر روحانی — Page 21

۲۱ پر یقیناً ایک ایسا زمانہ گزر چکا ہے جب کہ وجودِ انسانی تو موجود تھا مگر مذکور نہیں تھا وہ یاد نہیں کیا جاتا تھا۔گویا حس شناخت جو انسان میں موجود ہے وہ اُس وقت نہیں تھی۔ایک وجود موجود تھا مگر بغیر عقل اور بغیر شعور کے ، ایک دوسرے کے متعلق اسے کوئی واقفیت نہ تھی۔اسے کوئی علم نہ تھا کیونکہ یہ باتیں دماغ سے تعلق رکھتی ہیں اور دماغ دورثانی میں نہیں تھا۔انسانی پیدائش کا تیسرا دور تیرا دور قرآن کریم سے انسانی پیدائش کے متعلق وہ معلوم ہوتا ہے جب کہ وہ ایسی شکل میں آیا کہ اس کی پیدائش نطفہ سے ہونے لگی یعنی مرد و عورت کے تعلق سے اور اُس وقت سے اس کے مزاج میں تنوع پیدا ہوا۔حیوانوں میں سے بھی بعض حیوان نر و مادہ نہیں ہوتے ، مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر انسان پر وہ دور آیا جب کہ اُسے نر و مادہ میں تقسیم کر دیا گیا یعنی حیوان بنا اور حیوان سے ترقی کر کے اُس حالت کو پہنچا کہ جب تناسل نطفہ سے شروع ہو جاتی ہے جو بات کہ اعلیٰ درجہ کے حیوانوں میں پائی جاتی ہے اور پھر اس سے ترقی کر کے وہ ایسا حیوان بنا جو نطفہ امشاج سے بنتا ہے یعنی اس کے اندر مختلف قومی پیدا کئے گئے۔اللہ تعالیٰ اس امر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ أَمْشَاجِ نَّبْتَلِيْهِ ا کہ ہم نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا جو مرکب تھا اور جس کے اندر بہت سے اجزاء ملائے گئے تھے کیونکہ ہم نے اس سے مرکب قسم کا کام لینا تھا۔پس چونکہ ہم نے اس سے مرکب کام لینا تھا اس لئے ہم نے نطفہ میں بھی مرتب کی طاقتیں رکھ دیں یہ تیسرا دور ہے جو انسانی پیدائش پر آیا۔ہے۔انسانی پیدائش کا چوتھا دور چوتھا دور انسانی پیدائش پر وہ آیا جب کہ انسانی دماغ کامل ہو گیا اور اس میں سمجھ اور ترقی کا مادہ پیدا ہو گیا گویا اب دماغی ارتقاء اور دماغی قوتوں کے ظہور کا زمانہ آ گیا اور وہ سامع اور باصر وجود سے سمیع اور بصیر وجود بنا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًا اس دور میں جب کہ انسانی پیدائش نطفہ سے ہونے لگ گئی تھی اور وہ ذَكَر وانثی بن گئے تھے ابھی ان میں انسانیت نہیں آئی تھی بلکہ حیوانیت ہی تھی کیونکہ گونر و مادہ کی تمیز پیدا ہوگئی تھی مگر یہ تمیز حیوانوں میں بھی پائی جاتی ہے اس طرح گو اُس دور میں انسان باصر اور سامع تھا جیسا کہ حیوان بھی باصر اور سامع ہوتا ہے حیوان بھی دوسروں کو دیکھتا اور حیوان بھی آہٹ کو سُن لیتا ہے پس اس دور میں وہ ایک حیوان تھا مگر اس کے بعد دور رابع اس پر وہ آیا جب کہ دماغی اور ذہنی ارتقاء کی وجہ سے تحقیق اور