سیر روحانی — Page 20
دور اول عدم تھا۔یہ اختلاف دنیا میں ہمیشہ سے چلا آیا ہے کہ دنیا کی ابتداء کس طرح ہوئی ؟ آریہ کہتے ہیں کہ مادہ جس سے تمام دنیا کی تخلیق ہوئی یہ ازلی ہے۔خدا نے صرف اتنا کیا ہے کہ مادہ اور رُوح کو جوڑ جاڑ دیا اور اس طرح انسان بن گیا ، مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ عقیدہ غلط ہے مادہ از لی نہیں بلکہ اسے خدا نے پیدا کیا ہے اور یہ کہ پہلے کچھ نہ تھا پھر خدا نے انسان کو پیدا کیا۔چنانچہ فرماتا ہے۔اَوَلَا يَذْكُرُ الْإِنْسَانُ انَّا خَلَقْهُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَيْئًا کہ کیا انسان کو یہ بات معلوم نہیں کہ ہم نے جب اُسے پیدا کیا تو وہ اُس وقت کوئی شئے بھی نہیں تھا۔آجکل کی پیدائش اور قسم کی ہے آجکل نطفہ سے انسان پیدا ہوتا ہے۔اس آیت میں جس خلق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ موجودہ دور سے بہت پہلے کی ہے۔گویا ابتدائی حالت انسان کی عدم تھی۔پھر خدا اسے عالم وجود میں لایا مگر یہ یا درکھنا چاہئے کہ اسلام یہ نہیں کہتا کہ عدم سے وجود پیدا ہوا بلکہ وہ کہتا ہے کہ پہلے عدم تھا پھر وجود ہوا۔یہ دھوکا زیادہ تر سے" کے لفظ سے لگتا ہے کیونکہ ” سے کا لفظ اُردو زبان میں مادہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔کہتے ہیں لکڑی سے کھلونا بنایا یا لوہے سے زنجیر بنائی۔جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ پہلے لکڑی اور لوہا موجود تھا جس سے اور چیزیں بنائی گئیں۔اس لئے جب مسلمانوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو عدم سے بنایا تو غیر مذاہب والے اعتراض کرتے اور یہ کہتے ہیں کہ جب کچھ بھی نہیں تھا تو اس سے خدا نے انسان کو بنا یا کس طرح؟ پس یا د رکھنا چاہئے کہ اسلام یہ نہیں کہتا کہ عدم سے انسان بنا ہے بلکہ وہ کہتا ہے کہ پہلے عدم تھا پھر اس کا وجود ہو ا۔پس خدا نے عدم سے انسان کو نہیں بنایا بلکہ اپنے حکم کے ماتحت بنایا ہے مگر یہ کہ اُسے کس طرح بنایا ہے اس کا ذکر خدا تعالیٰ نے چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس کے سمجھنے کی انسان میں قابلیت نہیں۔اگر انسان اس کو سمجھ سکتا تو وہ بھی انسان بنانے پر قادر ہوتا۔وجو د انسانی کے دور ثانی کی کیفیت انسان کا دورثانی قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانہ میں انسانی وجود تو تھا مگر بلا دماغ کے۔گویا انسانی وجود تو تھا مگر انسان نہ تھا اور نہ اس کی حالت کو سوچنے والا کوئی دماغ تھا ، گویا دماغی ارتقاء سے پہلے کی حالت میں تھا۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اُس وقت جمادی رنگ میں تھا یا نباتی رنگ میں۔مگر بہر حال خواہ وہ اُس وقت جمادی رنگ میں ہو خواہ نباتی رنگ میں ، حیوانی رنگ میں نہیں تھا اور اس کا پتہ بھی قرآن کریم سے لگتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنُ شَيْئًا مَّدُ كُورًا " کہ کیا انسان کو یہ معلوم ہے یا نہیں کہ انسان کے