سیر روحانی — Page 395
۳۹۵ ریٹائر ہوکر جرمن چلا گیا ہے اس کی تلاش میں جرمن پہنچا، وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ پادری مر گیا ہے۔مگر اس نے اپنی کوشش نہ چھوڑی اور اس نے گھر والوں سے کہا کہ اگر اس پادری کے کوئی پُرانے کاغذات ہوں تو وہ مجھے دکھائے جائیں۔گھر والوں نے تلاش کر کے اسے بعض کاغذات دیئے اور جب اس نے ان کا غذات کو دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ دعائیں جو بیہوشی کی حالت میں وہ لڑکی پڑھا کرتی تھی وہ وہی اس پادری کی سرمن تھی۔اب دیکھو! دو اڑھائی سال کی عمر میں ایک پادری نے اس کے سامنے بعض باتیں کیں جو اس کے دماغ میں اللہ تعالیٰ نے محفوظ کر دیں۔کے کان میں اذان اور اقامت کہنے کی حکمت یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ بچہ علایم کے علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی مسلمان کے گھر میں بچہ پیدا ہو تو فوراً اُس کے ایک کان میں اذان اور دوسرے کان میں اقامت کہو۔یورپ کے مدبرین نے تو آج یہ معلوم کیا ہے کہ انسانی دماغ میں سالہا سال کی پرانی چیزیں محفوظ رہتی ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے اس نکتہ کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ بچہ کے پیدا ہوتے ہی تم اس کے کان میں اذان کہو کیونکہ اب وہ دنیا میں آ گیا ہے اور اس کا دماغ اس قابل ہے کہ وہ تمہاری باتوں کو محفوظ رکھے۔دنیا کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کی تسبیح کر رہا ہے پھر فرماتا ہے يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَواتِ وَ الْأَرْضِ دنیا کا ذرہ ذرہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔بے شک بادی النظر میں بعض چیزیں قابلِ اعتراض نظر آئیں گی لیکن جب بھی غور کیا جائے گا انسان کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام بے عیب اور پر حکمت ہے۔لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی ملا دماغ کا آدمی ایک دفعہ باغ میں گیا اور اس نے دیکھا کہ آم کے درخت پر تو چھوٹے چھوٹے پھل لگے ہوئے ہیں اور ایک معمولی سی بیل کے ساتھ بڑا سا حلوہ کڈ و لگا ہوا ہے۔وہ دیکھ کر یہ کہنے لگا کہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بڑا حکیم ہے مگر مجھے تو اس میں کوئی حکمت نظر نہیں آتی کہ اتنے بڑے درخت کے ساتھ تو چھوٹے چھوٹے پھل لگے ہوئے ہوں اور اتنی نازک سی بیل کے ساتھ اتنا بڑا حلوہ کڈ و لگا ہوا ہو۔اس کے بعد وہ آرام کرنے کے لئے اسی آم کے درخت کے نیچے سو گیا۔سویا ہوا تھا کہ اچانک ایک آم ٹوٹا اور زور