سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 900

سیر روحانی — Page 392

۳۹۲ چاول پیدا کر دیئے۔غرض جو بھی خواہشیں اور قوتیں انسان کے اندر پیدا کی گئی ہیں ویسی ہی چیزیں اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں پیدا کر دی ہیں اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے کیونکہ انسان میں جو طاقتیں رکھی گئی ہیں ویسی ہی چیزیں دنیا میں بنا دی گئی ہیں۔ان چیزوں کی پیدائش کو ہم اتفاقی نہیں کہہ سکتے یہ اتفاقی معاملہ تب ہوتا جب بنی نوع انسان کی کوئی ایسی طاقت ہوتی جس کا جواب قانونِ قدرت میں نہ ہوتا مگر ہم تو دیکھتے ہیں کہ ہر طاقت اور ہر قابلیت کا جواب خدا تعالیٰ کے قانون میں موجود ہے۔اگر تمہارا منہ نرم نرم اور پہلی سی چیز کو چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے چاول بنا دیئے ہیں۔اگر تمہارے دانت سخت چیز کے چبانے کی طاقت رکھتے ہیں تو اس نے ہڈیاں اور دانے وغیرہ بنا دیئے ہیں۔اگر تمہارا معدہ لذیذ اور شیریں چیزوں کا محتاج ہے تو اس نے تمہارے لئے شکر پیدا کر دی ہے۔بچپن میں دانت نہیں ہوتے تو ماں کی چھاتیوں میں دودھ پیدا کر دیتا ہے غرض تمام چیزیں جن کی عمر بھر کسی وقت بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے ان سب کا کائناتِ عالم میں موجود ہونا دلالت کرتا ہے کہ ایک ایسی ہستی موجود ہے جس نے پالا رادہ اور حکمت کے ماتحت اس دنیا کو پیدا کیا ہے۔بنی نوع انسان پر عظیم الشان احسان پر فرماتا ہے هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ٣٢ فرماتا ہے وہ خدا ہی ہے جو (۱) پیدا کرتا ہے (۲) پھر وہ تراشتا ہے یعنی نقائص کو دور کرتا ہے (۳) پھر وہ تصویر دیتا ہے یعنی کام کے مناسب حال قو تیں بخشتا ہے (۴) لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسُنی اِس کے علاوہ وہ اور بھی بہت سے نیک تغیرات پیدا کرتا ہے۔مثلاً طاقتوں کے مطابق با ہر سامان پیدا کرتا ہے جس کی طرف اس کی صفتِ رحمن اشارہ کرتی ہے اور پھر کام کرنے پر اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج پیدا کرنے کے سامان مہیا کرتا ہے جس کی طرف اس کی صفتِ رحیم اشارہ کرتی ہے۔مثلاً ہر کام دنیا میں ایک اچھا یا بُرا اثر چھوڑتا ہے وہ وہیں ختم نہیں ہو جاتا۔تم ہاتھ ہلاتے ہو تو ہاتھ ہلانے سے تمہارا کام ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اس سے دوسری دفعہ تمہارے اندر ہاتھ ہلانے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے یا مثلاً بچہ کو دیکھ لو وہ اپنے ہاتھ پاؤں ہلا تا ہے اور آخر کچھ عرصہ کے بعد اُس کے پاؤں میں کھڑا ہونے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔اُس کا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا کسی ایک حرکت کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اس کی پہلی تمام حرکتوں کا ایک مجموعی نتیجہ ہوتا ہے۔ا