سیر روحانی — Page 393
۳۹۳ انسانی دماغ کی حیرت انگیز وسعت یہی حال حافظہ کی قوت کا ہے ہم ایک بچہ کو بتاتے ہیں کہ یہ چیز جو تم کھا رہے ہوا سے روٹی کہتے ہیں۔اب اگر دس سال کے بعد بھی اس سے پوچھو کہ اس چیز کا کیا نام ہے تو وہ فوراً کہہ دیگا کہ روٹی۔یہ چیز اس کے دماغ میں کس نے محفوظ رکھی ہے صرف اللہ تعالیٰ نے اور پھر یہ دماغ کے اندر کتنی بڑی لائبریری ہے جس میں لاکھوں لاکھ الفاظ سالہا سال سے محفوظ چلے آتے ہیں اور جب بھی کسی لفظ کی ہمیں ضرورت محسوس ہوتی ہے ، ہمارے دماغ کا لائبریرین فوراً اس لفظ کو نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ برٹش میوزیم (BRITISH MUSEUM ) میں تین لاکھ کتابیں محفوظ ہیں اور وہ اس میوزیم کی تعریف کرتے نہیں تھکتے لیکن اللہ تعالیٰ کے انعامات کی طرف دیکھو کہ ایک ادنیٰ سے ادنی اور جاہل سے جاہل انسان کے دماغ میں بھی اُس نے پچاس لاکھ سوراخ بنا رکھے ہیں جن میں ہر فقرہ اور ہر لفظ اور ہر زبر اور ہر زیر کو محفوظ رکھنے کی الگ الگ الماری ہے اور جب بھی کسی چیز کی ضرورت محسوس ہوتی ہے فوراً بلا کسی توقف اور تاخیر کے وہ چیز ہمارے سامنے لا کر پیش کر دیتا ہے۔دنیا کی لائبریریوں میں تو ایک ایک الماری میں سینکڑوں کتا بہیں ہوتی ہیں مگر یہاں ایک ایک لفظ اور ایک ایک فقرہ کے لئے ایک ایک سیل موجود ہے۔وہ جب بھی کوئی لفظ سیکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے فوراً اُٹھا کر دماغ کی کوٹھڑی میں محفوظ کر دیتا ہے۔پھر باہر تو لائبریریوں میں جو کام کرنے والے رکھے جاتے ہیں ان کو بڑی بڑی تنخواہیں دی جاتی ہیں مگر یہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کئے ہوئے نوکر موجود ہیں جو تم سے کوئی تنخواہ طلب نہیں کرتے۔تمہارے سامنے روٹی آتی ہے تو جھٹ لائبریرین تمہارے دماغ کے سوراخ میں سے روٹی کا لفظ نکال کر تمہارے سامنے رکھ دیتا ہے۔پانی آتا ہے تو پانی کا لفظ تمہارے سامنے آ جاتا ہے اسی طرح ایک ایک فقرہ اور ایک ایک لفظ جو تمہاری زبان پر جاری ہوتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرشتے رات اور دن مسلسل کام کر رہے ہیں۔گویا ساری حکومت امریکہ کا اتنا انتظام نہیں جتنا ایک جاہل سے جاہل آدمی کے دماغ میں خدا تعالیٰ نے انتظام قائم کیا ہوا ہے۔دنیوی حکومتوں کی احسان فراموشی پھر دنیوی حکومتیں وقت پر خدمت لے لیتی ہیں لیکن بعد میں بھول جاتی ہیں اور انہیں خیال بھی نہیں