سیر روحانی — Page 384
۳۸۴ ایمان رکھیں گے مگر گل اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کے بعد تم پھر شرک میں مبتلاء ہو جاؤ گے۔لوگ بعض دفعہ بچے دل سے تو بہ کرتے ہیں مگر پھر اپنے نفس کی کمزوری کی وجہ سے گنا ہوں میں ملوث ہو جاتے ہیں مگر یہاں اُن کی اس کیفیت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ہم آج تو تو بہ کرتے ہیں مگر گل جھوٹ بولنا شروع کر دیں گے۔آج تو ہم تو بہ کر رہے ہیں مگر کل پھر شرک میں ملوث ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ بھی اُن کی اِس حالت کو جانتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہ لوگ منافقت سے کام لے رہے ہیں، مگر اُس کا رحم بے انتہاء وسیع ہے وہ کہتا ہے اگر کل یہ شرک کریں گے تو دیکھا جائے گا اس وقت تو یہ تو بہ کر رہے ہیں چلو ان کو معاف کر دو۔کیا دنیا کی کوئی تو ایسی حکومت ہے جو جانتے بوجھتے ہوئے مُجرموں کو اس طرح معاف کر دے؟ نظامِ آسمانی میں دخل دینے والوں سے سلوک (۸) پھر نظامِ سماوی میں دخل دینے والے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةِ بِالْكَوَاكِبِ وَ حِفْظاً مِّنْ كُلّ شَيْطنٍ مَّارِدٍ - لَا يَسْمَعُونَ إِلَى الْمَلَا الْأَعْلَى وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبِ دُحُورًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبْ - إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ ۲۸ فرماتا ہے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو قانون شکنی کی کوشش کرتے ہیں وہ قانون کو بگاڑ کر اس کی اصل شکل کو مسخ کر دیتے ہیں اور اس طرح قانون کی غرض کو ضائع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے اس قانون کے خلاف بھی لوگ کوششیں کریں گے اور اس کو بگاڑنے کے لئے ہر قسم کی تدابیر سے کام لیں گے مگر ہم تمہیں پہلے سے بتا دیتے ہیں کہ ہمارے قانون کو کوئی بگاڑ نہیں سکتا کیونکہ ہم نے اپنے روحانی آسمان کو کواکب کے ساتھ مزین کیا ہے۔اس جگہ روحانی آسمان سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور کواکب سے مراد صحابہ کرام کی جماعت ہے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی ایسے رنگ میں حفاظت کی کہ جس کی مثال دنیا کی کسی اور قوم میں نہیں مل سکتی۔سماء روحانی کی کواکب سے حفاظت اسی حقیقت کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس حدیث میں اشارہ فرمایا۔أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِآتِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمُ ٣٩ میرے سب صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ، تم ان میں سے جس کے پیچھے بھی چلو گے