سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 900

سیر روحانی — Page 363

۳۶۳ بھی بدل نہیں سکتا۔وہ لوگ جو قرآن کریم کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں ہمارا ان سے یہ سوال ہے کہ کیا انسانی فطرت کبھی بدل سکتی ہے؟ اگر بدل نہیں سکتی تو پھر قرآن کریم بھی بدل نہیں سکتا۔گویا صرف یہی نہیں کہ یہ کتاب اب تک نہیں بدلی بلکہ متشابہ کہہ کر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ کتاب کبھی بدل ہی نہیں سکتی کیونکہ یہ فطرت کے مطابق ہے اور فطرت اس کے مطابق۔جب تک انسان کی فطرت صحیحہ قائم رہے گی یہ قرآن بھی قائم رہے گا۔سابق الہامی کتب کی تمام اعلیٰ دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ پہلی الہامی کتابوں کی اعلیٰ تعلیم کو پیش کرتا ہے گویا یہ متشابہ ہے موسیٰ حلیمیں قرآن کریم میں جمع ہیں کی کتاب سے اور یہ متشابہ ہے زرتشت کی کتاب سے اور یہ متشابہ ہے رام اور کرشن کی کتاب سے۔اَحْسَنَ الْحَدِیث میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ قرآن کریم میں اچھی سے اچھی اور بہتر سے بہتر باتیں بیان کی گئی ہیں اور متشابہ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ قرآن کریم سے پہلے جو الہامی کتب نازل ہو چکی ہیں ان تمام کتابوں کی اچھی سے اچھی اور بہتر سے بہتر باتیں اس میں موجود ہیں، تو رات کی اچھی باتیں اس میں موجود ہیں۔وید کی اچھی باتیں اس میں موجود ہیں ، ژند اوستا کی اچھی باتیں اس میں موجود ہیں۔جب ساری اچھی باتیں اس میں موجود ہیں تو ہمیں اس بات کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی کہ ہم دوسری کتابوں کی طرف رجوع کریں۔عیسائیوں کا ایک اعتراض عیسائی اعتراض کیا کرتے ہیں اور انہوں نے ینابیع الاسلام وغیرہ بعض کتابیں بھی اس موضوع پر لکھی ہیں کہ قرآن کریم نے فلاں بات فلاں جگہ سے نقل کی ہے اور فلاں فلاں جگہ سے حالانکہ قرآن کریم تو آپ کہتا ہے کہ میں نے ان باتوں کو نقل کیا ہے مگر قرآن کریم یہ بھی کہتا ہے کہ میں نے ان کی رڈی باتیں چھوڑ دی ہیں۔اگر اس میں ساری اچھی باتیں نہیں آئیں تو پھر جو قرآن کریم نے اچھی باتیں چھوڑ دی ہیں تم ان کی نقل کر دو اور کہو کہ یہ باتیں قرآن کریم سے رہ گئی ہیں لیکن اگر باقی صرف پھوگ ہی رہ گیا ہے تو ہم نے اس پھوگ کو کیا کرنا ہے۔گائے بھینس چارہ کھاتی ہے اور دودھ دیتی ہے تو اس دودھ کو دیکھ کر کہہ سکتے ہو کہ یہ وہی چارہ ہے جو ہم نے کھلایا تھا مگر پیتے دودھ ہی ہو چارہ نہیں کھاتے۔قرآن کریم نے بھی بعض باتوں کی نقل ہی کی ہے مگر انہیں نقل کر کے اس نے دودھ بنا دیا ہے جسے ہم پی رہے ہیں۔بائبل صرف ایک گھاس کے مشابہ ہے ، زرتشتی کتابیں صرف ایک گھاس کے مشابہ