سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 900

سیر روحانی — Page 364

۳۶۴ ہیں، وید صرف گھاس کے مشابہ ہے لیکن قرآن کریم انہی باتوں کو نقل کر کے جس طرح گائے اور بھینس گھاس کھا کر دودھ دیتی ہیں ان کو گھاس سے دودھ کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔پس بیشک قرآن کریم میں بعض باتیں ایسی ہیں جو انجیل کے مطابق ہیں بعض باتیں ایسی ہیں جو تو رات کے مطابق ہیں اور بعض باتیں ایسی ہیں جو دوسری کتب کے مطابق ہیں ، مگر اس نے ان تعلیموں کو نہایت ادنیٰ حالت سے لیکر اعلیٰ حالت تک پہنچا دیا ہے۔ہمارے مخالفوں کو گھاس کھانا ہی اچھا لگتا ہے تو وہ بے شک گھاس کھا ئیں ہم تو دودھ ہی پئیں گے۔قرآن کریم کی افضلیت پھر فرماتا ہے کہ یہ قرآن مَثَانِی ہے۔مَشَانِی کے متعلق ہم عربی لغت میں دیکھتے ہیں کہ اس کے کیا معنی ہیں۔وہاں مَشَانِی کے کئی معنے لکھے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ مَا بَعْدَ الْاَوَّلِ مِنْ اَوْتَارًا لعُودِث یعنی مزامیر اور سرنگی کی تاروں میں سے پہلی تار کے بعد جو دوسری تاریں آتی ہیں ان کو مَشَانِی کہتے ہیں۔پس قرآن کریم کو مَشَانِی قرار دینے کے یہ معنے ہوئے کہ یہ پہلی تاروں کے بعد دوسری تار ہے۔قرآن کریم یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں دنیا میں پہلی الہامی کتاب ہوں جیسے ویدوں کا دعوی ہے بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ میں ان کتابوں کے پیچھے آیا ہوں اور پھر اوپر کی چوٹی پر ہوں تا کہ کوئی اعتراض نہ کرے کہ قرآن کریم پہلی کتابوں سے اُتر کر دوسرے درجہ کی کتاب ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ میں ہوں تو دوسری کتاب مگر پہلی کتابوں سے زیادہ شاندار ہوں۔اگر ایک ڈاکٹر اپنے فن میں بڑا مشہور ہو اور اس کے بعد کوئی دوسرا ڈاکٹر آ کر اپنے آپ کو اس سے بڑھا کر دکھاوے تو وہ چھوٹا سمجھا جاتا ہے یا بڑا سمجھا جاتا ہے۔اگر ایک بیرسٹر بڑی کامیاب پریکٹس کرتا ہو اور اس کے بعد ایک دوسرا بیرسٹر آ جائے جو اپنے کام میں اتنا شہر ہ حاصل کر لے کہ تمام لوگ پہلے بیرسٹر کو چھوڑ دیں اور اُس کے پاس آجائیں تو کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ دوسرا بیرسٹر ہے اس کو پہلے بیرسٹر پر کیا فضیلت حاصل ہے؟ پہلے کی موجودگی میں اپنے درجہ کو قائم کر لینا اور اپنی دھاک بٹھا لینا ایک فخر کی بات ہوتی ہے ورنہ جہاں عالم نہیں ہوتے وہاں بعض دفعہ جاہل بھی آکر عالم بن جاتے ہیں اور وہ جو کچھ اوٹ پٹانگ کہہ دیں، لوگ سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ کہنے لگ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ بڑے عالم ہیں۔لطیفہ اسی قسم کے مسخرے کا ایک لطیفہ ہے۔لوگ اس سے مسئلے پوچھنے آتے تو کبھی وہ عقل کی بات کہہ دیتا اور کبھی بے وقوفی کی۔ایک دفعہ عیسائی آئے اور انہوں