سیر روحانی — Page 339
۳۳۹ بھی رُک رُک کر باتیں کرتے ہیں بلکہ میں نے تو دیکھا ہے کہ اگر باپ کی آنکھ یا ناک یا ہاتھ میں بات کرتے وقت کوئی معمولی سی حرکت بھی ہوتی ہے تو ویسی ہی حرکت بچے کی آنکھ یا ناک یا ہاتھ میں بھی پائی جاتی ہے یا اگر ماں اپنی آنکھ کو ذرا جھپک کر بات کرنے کی عادت ہو تو اس کی بیٹی میں بھی آنکھ کی ویسی ہی جھپک آ جاتی ہے۔غرض بچے اپنے اخلاق اور اپنی عادات اور اپنی زبان اور اپنے لب ولہجہ میں اپنے ماں باپ کی نقل کرتے ہیں اور یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو ماں باپ سے بچوں میں آجاتی ہیں مگر یہ کتنے بڑے افسوس کا مقام ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کامل باپ موجود ہے مگر مسلمان اس کی نقل کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے باپ کو چھوڑ کر دوسرے باپوں کے پیچھے بھاگے پھرتے ہیں۔کوئی بچہ نادان سے نادان اور پاگل سے پاگل بھی ایسا نہیں ہو سکتا جو اپنے باپ اور اپنی ماں کو چھوڑ کر دوسروں کے پیچھے بھا گا پھرے۔انسان کے بچہ کو جانے دو گتے بھی ایسا نہیں کرتے۔ایک گتے کو بھی اگر چند دن روٹی کھلاؤ تو وہ اپنے مالک کے گھر کا دروازہ نہیں چھوڑتا لیکن آج مسلمانوں کے دلوں میں اپنے عظیم الشان روحانی باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کرنے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی وہ منہ سے تو کہتے ہیں کہ اسلامی حکومت قائم ہونی چاہئے مگر یہ حکومت وہ دوسروں سے منوانا چاہتے ہیں خود اس حکومت کا جوا اُٹھانے کے لئے تیار نہیں حالانکہ ہزاروں ہزار احکام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے ہیں کہ نہ ان کے لئے کسی قانون کی ضرورت ہے نہ آئین کی ضرورت ہے نہ جتھے کی ضرورت ہے۔اللہ اکبر کہا اور نماز شروع کر دی۔کیا اس کے لئے کسی قانون کی ضرورت ہے یا رمضان آیا اور روزے رکھنے شروع کر دیئے کیا اس کے لئے کسی آئین کی ضرورت ہے؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا کے چپہ چپہ پر بغیر کسی قانون اور آئین کے قائم کی جاسکتی ہے مگر مسلمان اس کے لئے تیار نہیں۔وہ نعرے لگانا جانتے ہیں وہ تو منہ کی پھونکوں سے گفر مٹانا چاہتے ہیں لیکن عملی رنگ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین و کے لئے کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔افراد جماعت کو نصیحت میں اپنی جماعت سے کہتا ہوں میں نے پہلے بھی کئی دفعہ نصیحت کی ہے اور اب پھر کہتا ہوں کہ تمہارا سب سے بڑا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ خواہ کتنا ہی چھوٹا سہی مگر بہر حال تم اپنے دائرہ میں چھوٹے محمد بن جاؤ۔جس دن تم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو ایک چھوٹا محمد بنانے کی کوشش کرے گا ، جس