سیر روحانی — Page 338
۳۳۸ کی محبت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اپنے دل میں رکھنا بھی اس کا فرض ہے بلکہ میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی اور شخص بھی اس نکتہ پر عمل کرے گا تو خواہ وہ کسی فرقہ کا ہو وہ یقیناً ہدایت پائے گا اور خدا تعالیٰ کی نصرت حاصل کرے گا کیونکہ جو شخص نیکی کی طرف ایک قدم اُٹھاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور قدم اُٹھانے کی بھی توفیق مل جاتی ہے۔اپنے دائرہ میں ہر مسلمان کو ایک بہر حال یہ آیات بتاتی ہیں کہ حمد رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں آپ کی اُمت کے ہر فرد کے چھوٹا سا محمد بنے کی کوشش کرنی چاہئے لئے دنیا کا روحانی مینا ربننے کا سامان مہیا کیا گیا ہے۔وہ صرف دنیا کما کر کبھی اونچے نہیں ہو سکتے انہیں اصل اونچائی اُس وقت حاصل ہوگی جب وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جزو بن جائیں گے، جب وہ خدا تعالیٰ کا ذکر دنیا میں قائم کریں گئے، جب وہ نمازوں پر التزام رکھیں گے، جب وہ زکوۃ کے ادا کرنے والے ہوں گے اور کسی قسم کے ظلم اور فتنہ میں حصہ نہیں لیں گے، یہ وہ نسخہ ہے جس کو استعمال کر کے دنیا کا ہر مسلمان روحانی دنیا کا ایک چھوٹا مینار بن سکتا ہے مگر افسوس ہے کہ آج مسلمان اس نسخہ کو بُھول چکے ہیں وہ دنیا کی تمام بلندیوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ ترقی کرتے کرتے ایک چھوٹے شیکسپیئر بن جائیں ، وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ وہ ایک چھوٹے ہیگل بن جائیں، وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ وہ ایک چھوٹے فلسفی بن جائیں، وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ اگر سائیکالوجی کا کوئی بہت بڑا ماہر گزرا ہے تو وہ اس کی نقل میں ایک چھوٹے سائیکالوجسٹ بن جائیں، وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ ایک چھوٹے جیمز یا ایک چھوٹے فرائڈ بن جائیں مگر آج مشرق سے لے کر مغرب تک کسی مسلمان کے دل میں یہ خواہش نہیں پائی جاتی کہ وہ ایک چھوٹا محمد بن جائے حالانکہ ہمارے دل میں سوائے اس کے اور کوئی خواہش نہیں ہونی چاہئے کہ خواہ کچھ بھی ہو اور خواہ ہمیں اِس کے لئے کوئی بھی قربانی کرنی پڑے ہم ایک چھوٹے محمد بن جائیں۔اپنے روحانی باپ کی نقل کرو بچوں کودیکھ لو دنیامیں ہر بچہ اپنے ماں باپ کی محبت کی وجہ سے ان کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جن کی مائیں اپنے بچوں سے تو تلی زبان میں باتیں کرنے کی عادی ہوتی ہیں ان کے بچے بھی اسی رنگ میں بات کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور جن کے باپ باتیں کرتے وقت ہکلاتے ہیں اُن کے بچے کی