سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 900

سیر روحانی — Page 322

۳۲۲ محمد رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم سے جماعت احمدیہ کا ایک نیا عہد ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نیا عہد کیا ہے ہم نے یہ اقرار کیا ہے کہ دنیا کا ہر انسان خواہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دے ہم آپ کو مرتے دم تک نہیں چھوڑیں گے۔ہم نے اس عہد کے نشان کے طور پر اپنے گھروں میں مینار کھڑا کیا اور ہم نے اقرار کیا کہ ہم صرف منہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ہم اس فتنہ عظیمہ کے زمانہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں بچے طور پر پناہ دیں گے اور اپنی ہر چیز آپ کے لئے قربان کر دیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق انصار کا معاہدہ صحابہ کرام صحابہ کرام نے بھی آج سے تیرہ سو سال پہلے آپ کو اپنے گھروں میں پناہ دی تھی۔دعوی نبوت کے تیرھویں سال حج کے موقع پر جب اوس اور خزرج کے کئی سو آدمی مکہ آئے تو ان میں سے ستر لوگ ایسے بھی شامل تھے جو یا تو مسلمان تھے اور یا مسلمان ہونا چاہتے تھے۔ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی ایک گھائی میں ان کی ملاقات کے لئے تشریف لے گئے۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے اور جو آپ سے صرف ایک سال بڑے تھے وہ بھی آپ کے ساتھ تھے آدھی رات کے قریب مکہ کی ایک وادی میں جب دشمن، اسلام کے خلاف ہر قسم کے منصوبے کر رہا تھا یہ ستر آدمی جمع ہوئے اور آپس میں بحث شروع ہوئی کہ اگر مکہ کے لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آرام سے نہیں رہنے دیتے تو مدینہ کے لوگ اس خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔حضرت عباس نے کہا وعدے کرنے بڑے آسان ہوتے ہیں لیکن انہیں پورا کرنا مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا ہم جو کچھ وعدہ کر رہے ہیں سوچ سمجھ کر کر رہے ہیں اور ہم اس اقرار پر بیعت کرنے کے لئے تیار ہیں۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا اگر میرا یہ بھتیجا مدینہ چلا گیا تو تمام عرب قبائل تمہارے خلاف ہو جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ وہ مدینہ پر بھی حملہ کر دیں اس لئے تم یہ اقرار کرو کہ اگر کسی نے مدینہ پر حملہ کیا تو تم اپنی جان، مال، عزت اور آبرو کو قربان کر کے اس کی حفاظت کرو گے۔انہوں نے کہا ہاں ہم اس غرض کے لئے تیار ہیں اور جوش میں جیسے ہمارے ملک کے لوگ نعرے لگاتے ہیں انہوں نے بھی نعرہ تکبیر بلند کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے