سیر روحانی — Page 288
۲۸۸ ہمیں نہیں ملتا لیکن جس مینار کا میں ذکر کرنے والا ہوں اُس پر آسمان کی سب سے بڑی ہستی کے اُترنے کا زندہ ثبوت نظر آتا ہے۔پھر اس مینار پر روشنی بھی ہوتی تھی اور ہوتی ہے اور ہوتی رہے گی۔اس پر چڑھ کر آسمانی گردشوں کا بھی علم ہوا اور غیب کی خبر میں معلوم ہوئیں ، اس کے بنانے والے کا نام اس سے اب تک روشن ہے اور ہمیشہ روشن رہے گا اس کے بنانے کا کوئی اور مدعی کبھی پیدا نہیں ہوا اور نہ اس کے بنانے والے کے متعلق کبھی شک ہوا کہ شاید اس کو کسی اور نے بنایا ہو۔مقام محمدیت غرض قرآن کریم ایک ایسے مینار کی خبر دیتا ہے جس پر انسان چڑھا جس پر چڑھ کر اُسے آسمان کی سب سے بڑی ہستی کا پتہ چلا اور وہ عظیم الشان ہستی زمین پر بھی اُتری ، جس مینار سے دنیا میں روشنی پھیلی اور پھیلتی چلی جائے گی، جس مینار سے غیب کی خبریں ملیں اور ملتی چلی جائیں گی وہ مینار کیا ہے؟ وہ مینار مقام محمدیت ہے سورۃ نجم میں اللہ تعالیٰ اس مینار کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَالنَّجْمِ إِذَاهَوى مَاضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَواى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوى- اِنْ هُوَإِلَّا وَحْيٌ يُوحَى عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى ذُوْمِرَّةٍ فَاسْتَوَى وَهُوَ بِالأُفُقِ الْأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ سَيْنِ اَوْأَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاي اَفَتُمْرُونَهُ عَلَى مَايَرَى وَلَقَدرَاهُ نَزْلَةً أُخْرى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهى۔عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاوَى اِذْيَغْشَى السّدْرَةَ مَا يَغْشَى مَازَاغَ الْبَصَرُوَمَا طَغَى لَقَدْرَاى مِنْ آيَتِ رَبِّهِ الْكُبُری ۵ فرماتا ہے ہم شہادت کے طور پر ایک ستارہ کو پیش کرتے ہیں خصوصاً ثریا کو ادا ھوای جب وہ نیچے اُتر ا۔کس بات کے ثبوت کے طور پر اُسے پیش کرتے ہیں اس بات کے ثبوت کے طور پر کہ مَاضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَاغَوى تمہارا ساتھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ غلطی میں پڑا ہے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوای اور نہ وہ ہوا و ہوس میں مبتلاء ہو کر اپنی نفسانی خواہشات کو دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے اِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى بلکہ وہ جو کچھ پیش کر رہا ہے اس وحی کا