سیر روحانی — Page 280
۲۸۰ بڑے بڑے بلند مینار دیکھے، ایسے مینار جو آسمان سے باتیں کر رہے تھے ، جیسے قطب صاحب کی لاٹ ہے یا تغلق شاہ کی لاٹ ہے۔میں نے ان بلند و بالا میناروں کے دیکھنے کے بعد غور کیا کہ کیا قرآن کریم میں بھی کسی بلند تر روحانی مینار کا ذکر پایا جاتا ہے اور یہ کہ اس مینار کے مقابلہ میں دنیوی مینار کیا حقیقت رکھتے ہیں۔مینار کیوں بنائے جاتے ہیں؟ جب میں نے یہ سوچا تو پہلا سوال میرے دل میں یہ پیدا ہوا کہ مینار کیوں بنائے جاتے ہیں؟ اور کیا وہی اغراض قرآن کریم کی کسی پیش کردہ چیز سے پوری ہوتی ہیں یا نہیں؟ عالم بالا کے اسرار معلوم کرنے کی جستجو اس نقطہ نگاہ سے جب میں نے میناروں کی تاریخ پر غور کیا ، تو مجھے معلوم ہوا کہ مینار بنانے کا پہلا موجب یہ تھا کہ لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ آسمان کسی محدود فاصلہ پر واقع ہے اور وہ کسی اونچی جگہ پر جا کریا تو آسمان پر چڑھ جائیں گے اور یا اس قابل ہو جائیں گے کہ فرشتوں اور ارواح کے ساتھ باتیں کر سکیں اور آسمانی نظاروں کو دیکھ سکیں۔گویا میناروں کی تعمیر کا ایک محرک بنی نوع انسان کا یہ عقیدہ تھا کہ وہ اوپر چڑھ کر آسمان کے قریب ہو جائیں گے اور عالم بالا کے اسرار کو آسمانی ارواح سے معلوم کر سکیں گے۔قرآن کریم اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَهَامُنُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِى اَبْلُغَ الأَسْبَابَ۔أَسْبَابَ السَّمَوَاتِ فَاطَّلِعَ إِلى إِلَهِ مُوسَى وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّعَنِ السَّبِيلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ۔یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کیا تو فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات سن کر کہا کہ اس کا تو دماغ خراب ہو گیا ہے، یہ کہتا ہے کہ مجھ سے خدا اور اس کے فرشتے باتیں کرتے ہیں ، یہ جھوٹ بولتا ہے، میں اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔اے ہامان! تم میرے لئے ایک اونچا سامینار تیار کرو، میں بھی اس پر چڑھ کر دیکھوں کہ آسمان پر کیا ہوتا ہے اور آسمانی اسباب اور ذرائع سے پتہ لوں کہ کیا موسیٰ سچ کہہ رہا ہے یا جھوٹ۔پُرانے زمانے میں سب سے اونچے مینار مصر میں ہی بنا کرتے تھے اور یہ اونچے مینار اسی خیال کے تحت بنائے جاتے تھے کہ مصری سمجھتے تھے کہ ارواح سماویہ آسمان سے اُترتی ہیں تو بلندی پر رہنے کی وجہ سے وہ بلند جگہوں کو پسند کرتی ہیں اسی لئے وہ اپنے بزرگوں اور