سیر روحانی — Page 266
۲۶۶ دنیا میں قاعدہ ہے کہ جب میٹھی اور نمکین چیز ملائی جائے تو ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جو ان دونوں سے مختلف ہوتی ہے۔جیسے بعض لوگ میٹھی چائے میں نمک ملا لیا کرتے ہیں، میں ایسی چائے کو منافق چائے“ کہا کرتا ہوں اور مجھے اس سے بڑی نفرت ہے۔تھوڑے ہی ہے دن ہوئے ایک شادی ہوئی جس میں لڑکی والوں نے دعا کے لئے مجھے بھی بلایا ، ایسے موقع پر جو چیز بھی سامنے آئے میزبان کی خواہش کے مطابق استعمال کرنی پڑتی ہے، اتفاق ایسا ہوا کہ انہوں نے جو چائے تیار کرائی اُس میں نمک بھی ملا دیا۔میرے ساتھ ایک دوست بیٹھے ہوئے تھے وہ آہستہ سے میرے کان میں کہنے لگے ایسی چائے کو کیا کہتے ہیں ،میں نے کہا کہتے تو منافق ہی ہیں مگر اس وقت پئے ہی جائیں۔وہ دوست کچھ دیر سے واقع ہوئے ہیں ،میں ڈرا کہ کہیں وہ میزبان کے سامنے ہی نہ کہہ بیٹھیں اور اُن کی دل شکنی نہ ہو، مگر خیر گزری کہ انہوں نے میزبان کے سامنے کچھ نہ کہا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ پانی منافق نہیں ہوں گے باوجود اس کے کہ وہ دونوں ملے ہوئے ہوں گے اور بظاہر جب دو چیزیں مل جائیں تو دونوں کا ذائقہ بدل کر کچھ اور ہو جاتا ہے، مگر ہماری طرف سے یہ اعلان ہو رہا ہوگا کہ حِجْرًا مَّحْجُورًا۔اے ملنے والو! تمہارے ملنے۔کے یہ معنے نہیں ہیں کہ تم ایک دوسرے میں جذب ہو جاؤ بلکہ باوجود ملنے کے الگ الگ رہو۔دیکھ لو یہ وہی پیشگوئی ہے جس کا سورہ رحمن میں بھی ان الفاظ میں ذکر ہے مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِينِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا يَبْغِينِ ) کہ خدا نے دو سمندر اس زمانہ میں بنائے ہونگے ، ایک میٹھے پانی کا ہوگا اور ایک کڑوے پانی کا ، وہ دونوں آپس میں مل جائینگے مگر باوجود اس کے کہ ہ ملے ہوئے ہونگے ان میں ایسی برزخ حائل ہوگی کہ میٹھا پانی کڑوے میں جذب نہیں ہو گا وہ اور کڑوا پانی میٹھے میں جذب نہیں ہوگا۔مغربیت کی کبھی نقل نہ کرو یہ پیشگوئی در حقیقت مغربیت اور دجالیت کے متعلق ہے، چنانچہ دیکھ لو قرآن کریم نے اپنے الفاظ میں ہی اس طرف اشارہ کر دیا ہے فرماتا ہے هذَا مِلْح أجَاج - اور اُجاج سے یا جوج اور ماجوج دونوں قوموں کی طرف اشارہ ہے اس کے مقابلہ میں عَذَبٌ فُرَاتٌ رکھا ہے اور حِجْرًا مَّحْجُورًا میں بتا دیا کہ تمہیں ان قوموں سے مل کر رہنا پڑے گا اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت تمہیں عیسائی حکومت کے ماتحت رکھا جائے گا۔ایسی حالت میں تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ تم میٹھے پانی کا سمندر ہو اور وہ