سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 900

سیر روحانی — Page 267

۲۶۷ کڑوے پانی کا سمندر ہیں ، تم مغربیت کی نقل کبھی نہ کرو اور باوجود ان میں ملے ہونے کے ایسے امور کے متعلق صاف طور پر کہہ دیا کرو کہ تم اور ہو اور ہم اور ہیں گویا ایک برزخ تمہارے اور اُن کے درمیان ضرور قائم رہنی چاہئے یہی وہ برزخ ہے جس کو قائم کرنے کے لئے میں تحریک جدید کے ذریعہ جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ مغربی اثرات کو قبول نہ کریں جو احمدی میٹھے پانی کا ہے وہ ضرور ان سے الگ رہے گا اور یہ ہو نہیں سکتا کہ کڑوا اور میٹھا پانی ایک دوسرے میں جذب ہو جائے۔اسی طرح جو غیر احمدی ہیں وہ خواہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہ مانتے ہوں ، انہیں مغربیت کی نقل نہیں کرنی چاہئے ، کیونکہ یہ مسیح موعود کی تعلیم نہیں یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ اُن کے بھیجنے والے خدا کی تعلیم ہے۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو کھانے پینے ، پہننے اور تمدن ومعاشرت کے دوسرے کئی امور میں مغربیت کی نقل کرتا اور اس نقل میں خوشی اور فخر محسوس کرتا ہے، ایسے لوگ در حقیقت مِلْحٌ اُجاج ہیں ، عَذُبٌ فُرَاتٌ سے تعلق نہیں رکھتے۔جماعت احمدیہ کے قیام میں ایک بہت بڑی حکمت ایک دفعہ بعض غیر احمدیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال کیا کہ شادی بیاہ اور دوسرے معاملات میں آپ اپنی جماعت کے لوگوں کو کیوں اجازت نہیں دیتے کہ وہ ہمارے ساتھ تعلقات قائم کریں۔آپ نے فرمایا اگر ایک مٹکا دودھ کا بھرا ہوا ہو اور اس میں کھٹی لسی کے تین چار قطرے بھی ڈال دیئے جائیں تو سارا دُودھ خراب ہو جاتا ہے۔تو لوگ اس حکمت کو نہیں سمجھتے کہ قوم کی قوت عملیہ کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اسے دوسروں سے الگ رکھا جائے اور اُن کے بداثرات سے اُسے بچایا جائے۔آخر ہم نے دشمنانِ اسلام سے روحانی جنگ لڑنی ہے۔اگر اُن سے مغلوب اور ان کی نقل کرنے والے غیر احمدیوں سے ہم مل جل گئے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم بھی یورپ کے نقال ہو جائیں گے اور ہم بھی جہاد قرآنی سے غافل ہو جائیں گے۔پس خود اسلام اور مسلمانوں کے فائدہ کے لئے حکومتی اور سیاسی اور معاشرتی اتحاد کے آگے ہم کو دوسری جماعتوں سے نہیں ملنا چاہئے تاکہ ہم غافل ہو کر اپنا فرض جو تبلیغ اسلام کا ہے بُھول نہ جائیں جس طرح دوسرے مسلمان بھول گئے ہیں۔خدا تعالیٰ اُن کو بھی ہدایت دے اور انہیں بھی یہ فرض ادا کرنے کی توفیق بخشے۔اسلام میں پہلے ہی سپاہیوں کی کمی ہے اگر تھوڑے بہت سپاہی جو اُسے میسر آئیں