سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 900

سیر روحانی — Page 255

۲۵۵ پہلی آیت میں سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ کا ذکر آتا تھا مگر یہاں فرمایا کہ سُرُرٌ مَّرْفُوعَةً ہونگے سریر کا لفظ جب عربی زبان میں بولا جائے اور اس کی وضاحت نہ کی جائے تو اس کے معنے تخت بادشاہی کے ہوتے ہیں چار پائی کے معنے تب ہوتے ہیں جب ساتھ کوئی ایسا لفظ ہو جو چار پائی کی طرف اشارہ کر رہا ہو۔جیسے سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ کے الفاظ تھے لیکن اگر خالی سُود کا لفظ آئے تو اس کے معنے تختِ شاہی کے ہوں گے اور جب کوئی اور معنی مراد ہوں تو سُود کے ساتھ تشریح کے لئے ضرور کوئی لفظ ہوگا۔یہاں چونکہ خالی سُود کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس لئے اس سے مراد تخت شاہی ہی ہے اور پھر تختِ شاہی کی طرف مزید اشارہ کرنے کے لئے مَرْفُوعَةٌ کہہ دیا، کیونکہ تختِ شاہی اونچار کھا جاتا ہے، مطلب یہ کہ جنتی وہاں بادشاہوں کی طرح رہیں گے۔دنیا میں تو وہ غلام بنا کر رکھے جاتے تھے مگر جب انہوں نے خدا کے لئے غلامی اختیار کر لی اور اُسے کہہ دیا کہ اے ہمارے رب! ہم تیرے غلام بن گئے ہیں تو خدا نے بھی کہہ دیا کہ اے میرے بندو! چونکہ تم میرے غلام بنے ہو اس لئے میں تمہیں بادشاہ بنادوں گا۔خدا تعالی کی کچی غلامی اختیار کرنے دنیا میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ کسی نے سچے دل سے خدا تعالی کی غلامی اختیار کر لی تو والے دنیا میں بھی بادشاہ بنا دیئے گئے خدا نے اسے بادشاہ بنا دیا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق کسی کو خیال بھی نہیں آتا تھا کہ وہ حکومت کر سکتے ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی خیال کے تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اور انصار اور مہاجرین میں خلافت کے بارہ میں کچھ اختلاف ہو گیا اور اس اختلاف کی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ہوئی تو وہ فوراً اس مجلس میں گئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ سمجھتے تھے کہ اس مجلس میں بولنے کا میرا حق ہے ابو بکر خلافت کے متعلق کیا دلائل دے سکتے ہیں؟ مگر وہ کہتے ہیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جاتے ہی تقریر شروع کر دی اور ایسی تقریر کی کہ میں نے جس قدر دلیلیں سوچی ہوئی تھیں وہ سب اس میں آگئیں مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تقریر ختم نہ ہوئی اور وہ اور زیادہ دلائل دیتے چلے گئے ، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ میں ابوبکر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ابوبکر مکہ کے رؤساء کے مقابل پر کوئی خاص اعزاز نہیں رکھتے تھے اس میں کوئی محبہ نہیں کہ وہ ایک معزز خاندان میں سے تھے ، مگر معزز خاندان میں سے ہونا اور بات ہے اور ایسی