سیر روحانی — Page 232
۲۳۲ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهرُ تو مؤمنوں کو بشارت دے کہ اُن کو ایسی جنتیں ملیں گی جن کی نہریں اُن باغوں کے متعلق ہونگی یعنی جن کے باغ اُن کی نہریں۔یہ نہیں ہو گا کہ جس طرح دنیا میں نہری پانی کے استعمال کی اور اس کی مقدار کی گورنمنٹ سے اجازت لی جاتی ہے اسی طرح وہاں بھی اجازت لینی پڑے بلکہ جب چاہو ان نہروں سے فائدہ اُٹھا سکتے ہو، خواہ وہ دُودھ کی نہریں ہوں یا شہد کی نہریں ہوں یا پانی کی نہریں ہوں سب باغ والوں کے قبضہ میں ہوں گی۔مصفی شہد پھر میں نے کہا کہ دنیا کے مینا بازاروں میں شہد بھی ملتا ہے آیا اُس مینا بازار میں ـ بھی شہر ملتا ہے یا نہیں ؟ جب میرے دل میں یہ خیال آیا تو معاً میں نے یہ لکھا ہوا دیکھا کہ اَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُصَفّى " وہاں خالص شہد کی نہریں بھی بہتی ہونگی دنیا میں عام طور پر اول تو خالص شہد ملتا ہی نہیں۔لوگ مصری کا شربت بنا کر اور تھوڑ اسا اس میں شہد ملا کر کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ خالص شہد ہے اور اگر خالص شہد کا کچھ حصہ ہو بھی تو موم ضرور ہوتا ہے اور اگر شہد کا شربت بنا کر پیا جائے تو زبان پر موم لگ جاتا ہے، لیکن اگر کسی جگہ سے خالص شہد مل بھی جائے تو وہ پونڈوں اور ڈبوں کی شکل میں ملتا ہے مگر فرمایا ہمارے ہاں یہ نہیں ہوگا کہ پونڈوں کے وزن کے ڈبے پڑے ہوئے ہوں اور ہم کہیں کہ یہ چنے کا شہر ہے اور یہ آسٹریلیا کا شہد ہے بلکہ شہد کی نہریں بہتی ہوگی اور تمہارا اختیار ہوگا کہ جتنا شہد چا ہو لے لو۔پر لذت شراب پھر میں نے سوچا کہ دنیوی مینا بازاروں میں شراب بھی بکتی تھی اور گو شراب ایک بُری چیز ہے اور مسلمانوں کے لئے اس کا استعمال جائز نہیں، ہے مگر قرآن کریم یہ تو مانتا ہے کہ اس میں کچھ فائدے بھی ہوتے ہیں چنانچہ فرماتا يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا اِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنافِعُ لِلنَّاسِ ٢٣ لوگ تم سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں تم کہہ دو کہ اُن کے استعمال میں بڑا گناہ ہے مگر لوگوں کے لئے ان میں کچھ منافع بھی ہیں۔پس میں نے کہا جب قرآن خود یہ مانتا ہے کہ شراب میں کچھ فائدے بھی ہیں تو بہر حال شراب کے نہ ہونے سے ہم ان منافع سے تو محروم ہو گئے جو شراب سے حاصل ہو سکتے تھے، بیشک دُنیوی مینا بازاروں میں جو شراب ملتی تھی ، اُس کے پینے سے انسان گناہوں میں ملوث ہو جاتا تھا ، مگر بہر حال اُسے شراب کے فائدے بھی پہنچتے تھے۔اس لئے شراب میں کچھ منافع بھی ہیں تو کیا اس کی خرابیوں سے بچا کر مجھے اس