سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 900

سیر روحانی — Page 230

۲۳۰ ایسے وقت میں تو سرد یا سرد مزاج پانی سخت تکلیف دیتا ہے۔پس اگر یہ کا فوری پیالے ہی ملے تو ایسے وقت میں وہ کفایت نہ کریں گے ، ایسے وقت میں تو گرم چائے کی ضرورت ہوگی۔جب مجھے یہ خیال آیا تو میں نے دیکھا کہ اس آسمانی مینا بازار میں چائے کا بھی انتظام تھا۔چنانچہ لکھا ب وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيلاً ٣ چونکہ انسان کو کبھی گرمی کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے اس لئے جنتیوں کو ایسے پیالے بھی ملیں گے جن کے اندر سونٹھ کی طرح گرم خاصیت ہوگی۔تو دیکھو دونوں ضرورتوں کو خدا تعالیٰ نے پورا کر دیا ، گرمی دور کرنے کے لئے مؤمنوں کو ایسے پیالے پلانے کا انتظام کر دیا جو کا فوری مزاج والے ہوں گے اور سردی کے اثرات کو دُور کرنے کے لئے ایسے پیالے پلانے کا انتظام فرما دیا جو زنجبیلی مزاج والے ہوں گے۔پھر اس کی وجہ بھی بتا دی کہ کافوری پیالوں کی کیوں ضرورت ہوگی اور زنجبیلی پیالوں کی کیوں؟ کافوری پیالوں کی تو اس لئے ضرورت ہوگی کہ مؤمن خدا تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتے تھے اور اُن کے دل و دماغ میں گھبراہٹ رہتی تھی کہ نہ معلوم وہ اللہ تعالیٰ کی رضاء کے مقام کو حاصل کرتے ہیں یا نہیں، اس لئے اگلے جہاں میں انہیں تسکین کے لئے کا فوری پیالے پلائے جائیں گے اور زنجبیلی پیالے اس لئے پلائے جائیں گے کہ انہوں نے دین کے لئے گرمی دکھائی تھی اور بے تاب ہو کر اللہ تعالیٰ کے راستہ پر چلتے رہے تھے، اس لئے جب اُن کو گرمی کی ضرورت ہو گی انہیں گرمی پیدا کرنے کے سامان دیئے جائیں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں لوگوں کو نکما بنا کر نہیں بٹھا دیا جائے گا بلکہ اُن کی ساری لذت ہی کام میں ہوگی اور انہیں زنجبیلی پیالے پلائے جائیں گے تاکہ اُن میں کام کی اور زیادہ قوت پیدا ہو۔پس یہ خیال غلط ہے جو بعض مسلمانوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے کہ جنت میں کوئی کام نہیں ہو گا ، اگر ایسا ہی ہو تو ایک ایک منٹ جنتیوں کے لئے مصیبت بن جائے۔ہوتو اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے إِنَّ هَذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا ٣ چونکہ تم نے دنیا میں بڑے بڑے نیک اعمال کئے تھے اس لئے تمہارے اُن کا موں کو قائم رکھنے اور تمہاری ہمتوں کو تیز کرنے کے لئے زنجبیلی پیالے پلائے جائیں گے تاکہ تم میں نیکی ، تقویٰ اور قوت عمل اور بھی بڑھے اور تا تم پہلے سے بھی زیادہ ذکر الہی کرو پس جنت نکموں کی جگہ نہیں بلکہ اس دنیا سے زیادہ کام کرنے کی جگہ ہے۔