سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 900

سیر روحانی — Page 229

۲۲۹ گرا بھی دیتا، مگر یہ گھوڑا جو مجھے ملا ہے، یہ نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے نہ لگتا ہے نہ موتا ہے ، نہ منہ زوری کرتا ہے اور نہ اپنے سوار کو گراتا ہے بلکہ سیدھا اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتا ہے۔پھر اُس گھوڑے پر چڑھ کر کوئی خاص عزت نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ ہر شخص جس کے پاس ہوسکتی سو پچاس روپے ہوں ، گھوڑ ا خرید سکتا ہے، مگر یہ گھوڑ ا خلعت کا گھوڑا ہو گا جو زمین و آسمان کے بادشاہ کی طرف سے بطور اعزاز آئے گا۔پس معمولی ٹشو پر چڑھنا اور بات ہے اور یہ کہنا کہ بادشاہ کی طرف سے جو گھوڑا آیا ہے اُس پر سوار ہو جائیے یہ اور بات ہے۔ٹھنڈے شربت (۳) تیسرے میں نے دیکھا کہ مینا بازار میں ٹھنڈے پانی ملتے تھے میں نے کہا دیکھیں ہمارے مینا بازار میں بھی ٹھنڈے پانی ملتے ہیں یا نہیں؟ تو میں نے دیکھا کہ ان دنیا کے مینا بازاروں میں جو ٹھنڈے پانی ملتے تھے وہ تو بعض دفعہ پینے کے بعد آگ لگا دیتے تھے اور صرف عارضی تسکین دیتے تھے، چنانچہ ہر شخص کا تجربہ ہو گا کہ گرمی میں جتنی زیادہ برف استعمال کی جائے اتنی ہی زیادہ پیاس لگتی ہے۔مگر یہ پانی جو آسمانی مینا بازار میں ملتے تھے ان کی یہ کیفیت تھی کہ يَشْرَبُونَ مِنْ كَاسِ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ۳۵ اس جنت کے مینا بازار میں مؤمنوں کو ایسے بھرے ہوئے پیالے ملیں گے جن کی ملونی اور جن کی خاصیت ٹھنڈی ہوگی ، وہ کا فوری طرز کے ہونگے اور ان کے پینے کے بعد گرمی نہیں لگے گی۔یعنی نہ صرف جسمانی ٹھنڈک پیدا ہو گی بلکہ ان کے پینے سے دل کی گرمی بھی دُور ہو جائے گی اور گھبراہٹ جاتی رہے گی اور اطمینان اور سکون پیدا ہو جائے گا۔چنانچہ قرآن کریم میں ہی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کا فوری پیالے اُن کو اس لئے ملیں گے کہ اُن کے دلوں پر خدا تعالی کا خوف طاری تھا اور وہ اُس کے جلال سے ڈرتے تھے اس وجہ سے اُن کا خوف دُور کرنے اور اُن کے دلوں کو تسکین عطا کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اُن کو کا فوری مزاج والے پیالے پلائے جاتے۔چنانچہ فرماتا ہے فَوَقَهُمُ اللهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا ٣٦ وہ لوگ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے ڈرا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی ہیبت ان کے دلوں پر طاری تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اُن کی ہیبت دور کرنے کے لئے ان کو کا فوری پیالے پلائے۔گرم چائے پھر میں نے سوچا کہ اچھا ٹھنڈے شربت تو ہوئے مگر کبھی گرم چائے کی بھی ضرورت ہوتی ہے تا کہ سردی کے وقت اس سے جسم کو گرمی پہنچائی جائے۔