سیر روحانی — Page 228
۲۲۸ کا پہلو اس میں ضرور تھا ، مگر میں نے کہا یہ عجیب قسم کے غلام ملیں گے جو نہ بھاگیں گے نہ مریں گے بلکہ مُخَلَّدُونَ ہونگے یعنی ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔پھر دنیوی مینا بازاروں میں تو انسان شاید ایک غلام خرید کر رہ جاتا یا دو غلام خرید لیتا یا تین یا چار خرید لیتا ، مگر اس مینا بازار میں تو بے انتہاء غلام ملیں گے چنانچہ فرماتا ہے اِذَا رَاَيْتَهُمُ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنشُورًا جس طرح سمندر سے سینکڑوں موتی نکلتے ہیں اسی طرح وہ غلام سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں ہوں گے۔پھر دنیوی غلاموں میں سے تو بعض بدمعاش بھی نکل آتے ہیں ، مگر ان کے متعلق فرمایا وہ لُؤْلُؤًا مَّنثُورًا کی طرح ہونگے ، دیکھو کیا لطیف تشبیہہ بیان کی گئی ہے۔دنیا میں موتی کو بے عیب سمجھا جاتا ہے اور کسی کی اعلیٰ درجہ کی خوبی بیان کرنے کے لئے موتی کی ہی مثال پیش کرتے ہیں۔پس اس مثال کے لحاظ سے لُؤْلُؤًا مَّنثُورًا کا مفہوم یہ ہوا کہ اُن میں کسی قسم کا جھوٹ ، فریب، دغا ، کینہ اور کپٹ نہیں ہوگا ، مگر موتی میں ایک عیب بھی ہے اور وہ یہ کہ اُسے چور چرا کر لے جاتا ہے، اسی لئے اُسے چُھپا چھپا کر رکھا جاتا ہے مگر فرمایا کہ وہ بیشک اپنی خوبیوں میں موتیوں کی طرح ہونگے مگر وہ اتنے بے عیب ہوں گے کہ تم بیشک انہیں گھلے طور پر پھینک دو اُن پر کوئی خراب اثر نہیں ہوگا۔دنیا میں غلام ایک دوسرے کا بداثر قبول کر لیتے ہیں اس لئے انہیں بُری صحبت سے بچانے کی ضرورت ہوتی ہے مگر فرمایا وہ بداثر کو قبول ہی نہیں کرینگے اس لئے ان کو چھپانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی بلکہ تم نے ان کو بے پروائی سے بکھیرا ہوا ہوگا اور تمہیں ان کے متعلق کسی قسم کا خوف اور تر ڈ دنہیں ہوگا۔اعلیٰ درجہ کی سواریاں پھر میں نے سوچا کہ اُس مینا بازار میں بڑی عمدہ سواریاں ملتی تھیں کیا یہاں بھی کوئی سواری ملے گی۔تو میں نے دیکھا کہ اس جگہ بھی سواری کا انتظام تھا چنانچہ لکھا تھا أُولَئِكَ عَلى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ المُفْلِحُونَ ۳۴ وہ متقی لوگ جو غلام بن چکے ہیں اُن کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی سواریاں آئیں گی جن پر سوار ہو کر وہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں پہنچیں گے ، میں نے کہا یہ سواری تو عجیب ہے مینا بازار سے تو بگنے ، موتنے اور گھاس کھانے والا گھوڑا ملتا تھا مگر یہاں ہدایت کی سواری ملے گی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے گی۔میں نے سمجھا کہ اگر وہاں گھوڑ ا ملتا ھے تو وہ لید کرتا اور اس کی صفائی میرے ذمہ ہوتی ، وہ گھاس کھاتا اور اس کا لانا میرے ذمہ ہوتا ، پھر شاید کبھی منہ زوری کرتا، میں اُسے مشرق کو لے جانا چاہتا اور وہ مجھے مغرب کو لے جاتا اور شاید مجھے