سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 900

سیر روحانی — Page 227

۲۲۷ مجھے حیران کر دیا اور کہا کہ دیکھو میاں! آقا نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ جَنْتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ وَالْمَلَئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ یعنی بجائے اس کے کہ رشتہ داروں کو الگ الگ رکھا جائے سب کو اکٹھا رکھا جائے گا ، اگر ان میں سے بعض ادنی عمل والے ہوں گے تب بھی اُن کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اعلیٰ مقام والوں کے پاس لے جائے گا اور رشتہ داروں کو جد اجد انہیں رکھے گا۔روحانی مینا بازار میں ملنے والی نعماء تب میں نے کہا یہ تو بڑے مزے کی غلامی ہے کہ اس غلامی کو قبول کر کے قید و بند سے نجات ہوئی، ہمیشہ کے لئے آقا نے کفالت لے لی، خواہشات نہ صرف قربان نہ ہوئیں بلکہ ان میں وہ تی وسعت پیدا ہوئی کہ پہلے اس کا خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا، پھر رشتہ دار اور عزیز بھی ساتھ کے ساتھ رہے۔تب میں نے شوق سے اس بات کو معلوم کرنا چاہا کہ یہ تو اجتماعی انعام ہوا، وہ جو مینا بازار کی چیزوں کا مجھ سے وعدہ تھا اس کی تفصیلات بھی تو دیکھوں کہ کیا ہیں اور کس رنگ میں حاصل ہوں گی۔میں نے سوچا کہ اُن مینا بازاروں میں غلام فروخت ہوتے تھے اور میں گو ایک بے عیب غلام لحاظ سے آزاد ہوں مگر بہر حال غلام ہوں اس لئے غلام تو مجھے نہیں مل سکتے۔یہ کمی تو ضرور رہے گی، مگر میں نے دیکھا اس جگہ دربار سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ جو اس آقا کے غلام ہو کر جنت میں داخل ہو جائیں گے وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمُ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْفُوراً ٣٣ اُن کی خدمت پر نوجوان غلام مقرر ہوں گے جو ہمیشہ وہاں رہیں گے اور وہ موتیوں کی طرح بے عیب ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے۔میں نے کہا دیکھو یہ کیسا فرق ہے اس مینا بازار اور دنیا کے مینا بازاروں میں ، دنیوی مینا بازاروں میں جو غلام خریدے جاتے ہیں اُن کے متعلق پہلا سوال تو یہی کیا جاتا ہے کہ قیمت کتنی ہے؟ اب بالکل ممکن ہے کہ ایک غلام کی قیمت زیادہ ہو اور انسان با وجود خواہش کے اسے خرید نہ سکے ، پھر اگر خرید بھی لے تو ممکن تھا کہ وہ غلام چند دنوں کے بعد بھاگ جاتا ، اگر نہ بھاگتا تو ہو سکتا تھا کہ مرجاتا ، اگر وہ نہ مرتا تو خرید نے والا مر سکتا تھا۔غرض کوئی نہ کوئی نقص