سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 900

سیر روحانی — Page 214

مقبرہ بنا دیا۔۲۱۴ روحانی مقبرہ میں رشتہ داروں کو اکٹھار کھنے کا انتظام پھر میں نے سوچا کہ دنیوی مقابر والوں نے تو یہ انتظام کیا ہوتا ہے کہ ان کے رشتہ دار بھی ان کے ساتھ مقبروں میں دفن ہوں۔کیا اس مقبرہ میں بھی کوئی ایسا انتظام ہے تو میں نے دیکھا کہ دنیوی مقبروں میں بیشک بعض قریبیوں کو دفن کیا گیا ہے جیسے شاہجہان کے ساتھ اس کی بیوی دفن ہے مگر سب کے لئے گنجائش نہیں تھی جیسے یہ نہیں ہے ہوا کہ شاہجہان کے بیٹے بھی اُس کے ساتھ دفن کئے جاتے اور نہ با ہمی بغض و عداوت کی وجہ سے وہ اکٹھے دفن کئے جا سکتے ہیں۔جیسے شاہجہان کو نور جہاں سے بغض تھا اس وجہ سے اس نے جہانگیر کے پاس اسے دفن نہ کیا بلکہ الگ دفن کیا اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک بڑے کی نے ادنی مقبرہ بنایا ہے اور بعد کے کسی چھوٹے درجہ والے نے بڑا مقبرہ بنایا ہے اس وجہ سے بھی بڑا اس کے ساتھ دفن نہ کیا جا سکا جیسے شاہجہان کے مقبرہ میں بابر ، ہمایوں ، اکبر اور جہانگیر کو لا کر دفن نہیں کیا گیا۔یہ نہیں ہوا کہ ان کی ہڈیاں کھود کر انہیں شاہجہان کے مقبرہ میں دفن کیا جاتا۔پھر بعض حوادث نے ان کو الگ الگ رکھا جیسے اور نگ زیب حیدر آباد میں فوت ہوا اور اورنگ آباد میں اس کا مقبرہ بنا۔حیدر آباد چونکہ گرم علاقہ ہے اور وہاں سے لاش لانے میں دقت تھی اس لئے وہ شاہجہان کے ساتھ اسے دفن نہ کر سکے بلکہ اگر چاہتے تب بھی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکتی تھی اور بعض دفعہ فاصلے کا سوال ایسا اہم ہوتا ہے جسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور باوجود خواہش کے ایک جگہ سب قریبی دفن نہیں ہو سکتے غرض کئی وجوہ ایسے ہو سکتے ہیں جن کی بناء پر سب کو اکٹھا دفن نہیں کیا جا سکتا۔بعض دفعہ بغض و عناد، بعض دفعہ جگہ کی تنگی ، بعض دفعہ فاصلہ کی زیادتی اور بعض دفعہ اچانک حادثات اس قسم کے ارادوں میں حائل ہو جاتے ہیں۔پس میں نے سوچا کہ کیا اس مقبرہ میں بھی کوئی ایسا انتظام ہے کہ سب رشتہ دار ا کٹھے رہیں جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ مقبرہ بیشک ایسا ہے جس میں سب رشتہ داروں کے جمع کرنے کا انتظام ہے۔بشرطیکہ ان کی طبائع ملتی ہوں تا کہ جھگڑا فساد نہ ہو چنانچہ میں نے دیکھا کہ اس مقبرہ کے متعلق حکم تھا جنَّتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ وَالْمَلَئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ۔سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ