سیر روحانی — Page 206
۲۰۶ فرماتا ہے أُولئِكَ فِى جَنْتِ مُكْرَمُونَ " جو نیک لوگ ہونگے انہیں جنت میں جگہ دی ہے جائے گی اور ان کے اعزاز کو ہمیشہ قائم رکھا جائے گا ، کوئی ان پر الزام نہیں لگا سکے گا۔کوئی ان کی بے عزتی نہیں کر سکے گا اور کوئی ان کے درجہ کو گرا نہیں سکے گا۔نا پاک لوگ اس مقبرہ میں کوئی بہتر مقام حاصل نہیں کر سکیں گے اس کے مقابلہ مِّنَ میں جو کافر ہیں ان کے متعلق فرماتا ہے اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَلَا اَوْلَادُهُمُ اللَّهِ شَيْئًا وَأُولَئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ " جو کافر ہیں ان کے اموال خدا تعالیٰ کے مقابل پر ان کے کام نہ آئینگے نہ اولاد کام آئے گی اور وہ ضرور آگ کا ایندھن بنیں گے۔دنیا کے مقبرے بنانے والے کون ہوتے ہیں وہی ہوتے ہیں جن کے پاس مال ہوتا ہے۔ایک انسان گندہ ہوتا ہے فریبی اور مکار ہوتا ہے مگر اُس کے پاس دس لاکھ روپے ہوتے ہیں جب وہ مرتا ہے تو وہی دس لاکھ روپے اُس کی اولاد کے قبضہ میں چلے جاتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ ہما را باپ خبیث تھا اس نے اپنی زندگی میں ہمیشہ جھوٹ اور فریب سے کام لیا اور کئی قسم کے ظلموں سے لوگوں کے مالوں کو لوٹا مگر محض اس وجہ سے کہ رو پیدان کے پاس بافراط ہوتا ہے وہ اس کا شاندار مقبرہ بنا دیتے ہیں اور اس طرح لوگوں کے سامنے وہ بات پیش کرتے ہیں جو واقعات کے لحاظ سے بالکل غلط ہوتی ہے۔چنانچہ کئی بادشاہوں کے مقبرے بھی موجود ہیں۔ان کے زمانہ کے لوگ کہا کرتے تھے کہ یا اللہ ! ان کا بیڑا غرق کر مگر جب مر گئے تو ان کے وارثوں نے اُن کے مقبرے بنا دیئے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہمارے نظام میں یہ خرابی نہیں۔دنیا میں تو غیر مستحق لوگوں کی اولا د یا مالی وسعت ان کے مقبروں کو شاندار بنائے رکھتی ہے اور اس طرح لوگوں کو دھوکا لگتا ہے مگر فرماتا ہے تم ہمارے مقبرہ میں ایسا نہ دیکھو گے إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوالَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمُ جو لوگ کافر ہیں اگر وہ شاہجہان سے بھی زیادہ مال اپنے پاس رکھتے ہیں تو وہ ہمارے مقبرے میں اس روپیہ سے اپنے لئے کوئی بہتر جگہ حاصل نہیں کر سکتے۔پھر فرماتا ہے کہ ممکن ہے کہ ان کا یہ خیال ہو کہ ہماری اولاد ہمارا مقبرہ بنا دیگی جیسے جہانگیر مر گیا تو اس کے عزیزوں نے اس کا مقبرہ بنا دیا، مگر فرمایا یہ خیال بھی غلط ہے ان کی اولاد بھی ان کے کام نہیں آ سکتی وَأُولَئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ ان کا مقبرہ تو آگ ہی ہے جس میں وہ ڈالے جائیں گے اور اپنے اعمال کی سزا پائیں گے۔