سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 900

سیر روحانی — Page 169

179 دیکھا ہے قریب سے قریب سبزی طائف میں ہے اور طائف وہاں سے تین منزل کے فاصلہ پر ہے۔باقی چاروں طرف بے آب و گیاہ جنگل کے سوا کچھ نہیں ، نہ غلہ پیدا کیا جاسکتا ہے اور نہ اسے جمع کرنے کے کوئی سامان ہیں۔اس قلعہ کے ارد گرد کوئی جنگل نہیں تھا (۴) چوتھے یہ امر مدنظر رکھا جاتا ہے کہ گر دو پیش جنگل ہوتا کہ ایندھن مل سکے اور دشمن پر حملہ میں آسانی ہو مگر میں نے اس قلعہ کو دیکھا کہ میلوں میل تک اس کے پاس جنگل چھوڑ درخت تک بھی کوئی نہیں۔یہ روحانی قلعہ اونچے مقام کی بجائے نشیب مقام میں بنایا گیا (۵) پانچویں اگر پہاڑی پاس ہو تو قلعہ اونچی جگہ پر بنایا جاتا ہے مگر یہ قلعہ ایسا ہے کہ اس کے پاس حراء اور قور دو پہاڑیاں ہیں، لیکن یہ قلعہ نشیب میں بنایا گیا ہے اور اس طرح دشمن پہاڑوں پر قبضہ کر کے اسے شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔اس قلعہ کی تعمیر میں معمولی گارا اور پتھر استعمال کئے گئے (۲) چھٹے یہ امر مدنظر رکھا جاتا ہے کہ قلعہ کی تعمیر عمدہ مصالحہ سے ہو مگر اس قلعہ کی تعمیر نہایت معمولی مصالحہ اور گارے وغیرہ سے ہے۔اس قلعہ کے اردگرد کوئی فصیل نہیں (۷) ساتویں یہ امر مد نظر رکھا جاتا ہے کہ قلعہ کی تعمیر اس طرح ہو کہ شہر کی حفاظت ہو سکے اور فصیلیں دُور تک پھیلی ہوئی ہوں مگر یہ عجیب قلعہ ہے کہ شہر ارد گرد ہے اور قلعہ شہر کے بیچوں بیچ ہے اور فصیل کا نام ونشان نہیں جس کی وجہ سے شہر کی حفاظت میں وہ کوئی مددنہیں دے سکتا۔(۸) آٹھویں بات یہ اس قلعہ کے چاروں طرف کھلے راستے پائے جاتے ہیں مدنظر رکھی جاتی ہے کہ اس کی طرف آنیوالے راستے ایسے ہوں کہ حسب ضرورت بند کئے جاسکیں مثلاً تنگ وادیوں میں سے گزریں مگر اس قلعہ کے راستے نہایت کھلے اور بے روک ہیں۔قرآن کریم خود فرماتا ہے عَلى كُلِّ ضَامِرٍ يَّأْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ١٠ کہ اس قلعہ کی طرف لوگ دوڑے چلے آتے ہیں اور انہیں آنے میں کسی قسم کی روک نہیں۔