سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 900

سیر روحانی — Page 139

۱۳۹ عورتوں کو ان کے حقوق دینے چاہئیں اور بعض مغرب زدہ نو جوان تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ عورتوں کو حقوق عیسائیت نے ہی دیئے ہیں۔حالانکہ ان کو یہ کہتے ہوئے شرم آنی چاہئے کیونکہ عورتوں کے حقوق کے سلسلہ میں اسلام نے جو وسیع تعلیم دی ہے عیسائیت کی تعلیم است کے پاسنگ بھی نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے عورتوں کو بہت وسیع حقوق دیئے ہیں۔عربوں میں رواج تھا کہ ورثہ میں اپنی ماؤں کو بھی تقسیم کر لیتے مگر اسلام نے خود عورت کو وارث قرار دیا، بیوی کو خاوند کا ، بیٹی کو باپ کا اور بعض صورتوں میں بہن کو بھائی کا بھی۔پھر فرمایا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ ۳۹ کہ انسانی حقوق کا جہاں تک سوال ہے عورتوں کو بھی ویسا ہی حق حاصل ہے جیسے مردوں کو ، ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔چنانچہ گل ہی میں نے عورتوں میں تقریری کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح مردوں اور عورتوں کو یکساں احکام دیئے ہیں اسی طرح انعامات میں بھی انہیں یکساں شریک قرار دیا ہے اور جن نعماء کے مردمستحق ہوں گے اسلامی تعلیم کے ماتحت قیامت کے دن وہی انعام عورتوں کو بھی ملیں گے۔بلکہ گل تو مجھے ایک عجیب استدلال سُوجھا۔میں نے کہا کہ قرآن اور حدیث نے تمہارا صرف ایک ہی مذہبی حق چھینا ہے اور وہ یہ کہ نبی مرد ہو سکتا ہے ، عورت نہیں ہو سکتی۔صرف یہ ایک ایسا مقام ہے جس کے متعلق عورت کہہ سکتی ہے کہ مجھے کم انعام دیا گیا ہے اور مرد کو زیادہ مگر میں نے انہیں بتایا کہ نبوت صرف ایک عہدہ ہے اور اس عہدہ کے ساتھ بہت بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، پس کی اس لئے خدا نے اسے نبی نہیں بنایا۔مگر انعامات کے لحاظ سے جو انعام عالم آخرت میں نبی کو ملے گا وہی اس کی بیوی کو بھی ملے گا ، کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔جَنَّتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ وَ الْمَلَئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ کہ جو لوگ جنت میں داخل ہو نگے ان کے ساتھ ان کے والدین، ان کی بیویوں اور ان کے بچوں کو بھی رکھا جائے گا۔اگر ایک شخص خود تو جنت کے اعلیٰ مقام پر ہوگا مگر اس کی بیوی کسی ادنیٰ مقام پر ہوگی تو اللہ تعالیٰ بیوی کو اسی جگہ رکھے گا جہاں اس کا خاوند ہوگا اور یہ پسند نہیں کرے گا کہ میاں بیوی جداجدا ہوں۔پس موسی کی بیوی موسی" کے ساتھ رکھی جائے گی داؤد کی بیوی داؤد کے ساتھ رکھی جائے گی ، سلیمان کی بیوی سلیمان کے ساتھ رکھی جائے گی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکھی جائیں