سیر روحانی — Page 138
۱۳۸ دیکھو جب یہ آیت اتری کہ شراب حرام ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو مدینہ کی کی گلیوں میں اس کا اعلان کرنے کے لئے مقرر کیا تو احادیث میں آتا ہے ایک جگہ شادی کی مجلسی لگی ہوئی تھی اور گانا گایا جا رہا تھا۔اتنے میں باہر سے آواز آئی کہ شراب حرام ہو گئی ہے، لکھا ہے جس وقت یہ اعلان ہوا اُس وقت وہ لوگ شراب کا ایک مٹکا ختم کر چکے تھے اور دو مٹکے ابھی رہتے تھے۔نشہ کی حالت ان پر طاری تھی اور وہ شراب کی ترنگ میں گا بجا رہے تھے کہ باہر سے آواز آئی شراب حرام کر دی گئی ہے۔یہ سنتے ہی ایک شخص نشہ کی حالت میں بولا کہ کوئی شخص آوازیں دیتا ہے اور کہتا ہے شراب حرام ہو گئی ہے۔دروازہ کھول کر پتہ تو لو کہ بات کیا کی ہے؟ اول تو کوئی شرابی نشہ کی حالت میں اس قسم کے الفاظ نہیں کہہ سکتا مگر ان کا دینی جذ بہ اس قدر زبر دست تھا کہ انہوں نے معاً آواز پر اپنا کان دھرا اور ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ دروازہ کھول کر دریافت کرو کہ بات کیا ہے؟ دوسرا شخص جس کو اس نے مخاطب کیا تھا وہ دروازہ کے پاس بیٹھا تھا اور اس نے اپنے ہاتھ میں ایک مضبوط ڈنڈا پکڑا ہو ا تھا اس نے جواب دیا کہ پہلے میں ڈنڈے سے مشکوں کو توڑوں گا اور پھر دریافت کرونگا کہ کیا بات ہے؟ جب ہمارے کان میں یہ آواز آ گئی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام کر دی ہے تو ی اب اس کے بعد ایک لمحہ کا توقف بھی جائز نہیں اس لئے میں پہلے مٹکے توڑوں گا اور پھر دروازہ کھول کر اس سے دریافت کرونگا۔چنانچہ اس نے پہلے مٹکے تو ڑے اور پھر منادی والے سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اس نے بتایا کہ حمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام کر دی ہے۔اس نے کہا الْحَمدُ لِلهِ ہم پہلے ہی مشکوں کو توڑ چکے ہیں۔۳۸ اب بتاؤ کہ کونسی مسجد ہے جو اس طرح بدیوں کو مٹا سکتی ہے۔قتل اولاد کی ممانعت دیکھو قتل اولاد ایک مانی ہوئی بدی ہے۔ساری قو میں اس امر کو کی تسلیم کرتی ہیں کہ قتل اولاد بہت بڑا جرم ہے مگر کسی قوم نے اس کی کے متعلق شرعی حکم نہیں دیا۔صرف اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے دنیا کے سامنے سب سے پہلے اس حقیقت کو رکھا اور بتایا کہ اولاد کا مارنا حرام ہے اور اس طرح دنیا کو ایک بہت بڑے شر سے بچایا۔عورتوں کے حقوق کی حفاظت اسی طرح عورتوں پر ظلم ہوتے تھے آج ساری دنیا میں یہ شور مچ رہا ہے کہ عورتوں کو ان کے حقوق دینے چاہئیں،