سیر روحانی — Page 109
1+9 میں بعض لوگ حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ حالات سُنائے جائیں۔آپ نے فرمایا كَانَ خُلُقَهُ الْقُرْآنُ مجھ سے حالات کیا پوچھتے ہو ، قرآن پڑھ کر دیکھ لو جتنی نیک اور پاک باتیں اس میں لکھی ہیں وہ سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود میں پائی جاتی تھیں، مجھے بھی کئی دفعہ خیال آیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات کے متعلق ایک ایسی کتاب لکھی جائے جس میں تاریخ یا حدیث سے مدد نہ کی جائے بلکہ صرف قرآن کریم سے استنباط کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر روشنی ڈالی جائے ( کاش! کوئی شخص اسی اصل کے مطابق ایک مدلل کتاب لکھ کر اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرے) غرض جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حضرت عائشہ نے یہ فرمایا تھا کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنُ آپ کے اخلاق عالیہ کا پتہ لگانے کے لئے تاریخی کتب کی ورق گردانی اور زید بکر سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔قرآن اُٹھاؤ اور اسے پڑھ لو ، جتنی اچھی باتیں ہیں وہ سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھیں۔اسی طرح صحابہ کے متعلق بھی ہمیں ایک اصولی نکتہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيْمَانَ وَ زَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَ كَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَ الْعِصْيَانَ ك فرماتا ہے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی جماعت ! تم وہ ہو کہ تمہارے دلوں میں خدا نے ایمان کی محبت ڈال دی ہے اور تمہاری حالت یہ ہوتی ہے کہ قرآن جو کچھ کہتا ہے تم اس پر فوری طور پر عمل کرنے لگ جاتے ہو اور اس نے ایمان کو تمہاری نظروں میں اتنا خوبصورت بنا دیا ہے کہ تمہیں اس کے بغیر چین ہی نہیں آتا جس طرح خوبصورت چیز کی طرف مُجھکتے ہو اور اُسے ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَ الْعِصْيَانَ اور اُس نے کفر، فستق اور نا فرمانی سے تمہیں اتنا متنفر کر دیا ہے کہ تم اس کی کی طرف رغبت ہی نہیں کرتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور صحابہ دو مترادف الفاظ ہیں اگر اسلام میں کوئی حکم پایا جاتا ہے تو صحابہ نے اس پر یقینا عمل کیا ہے اور اگر صحابہ نے کسی بات پر عمل کیا ہے تو اسلام میں وہ ضرور پائی جاتی ہے جس طرح حضرت عائشہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا تھا کہ كَانَ خُلُقَهُ الْقُرانُ اسی طرح صحابہ جس بات پر عمل کریں اُس کے متعلق سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اسلام میں پائی جاتی ہے اور اسلام نے جس قدر احکام دیئے ہیں اُن کے متعلق سمجھ لینا چاہئے کہ ان پر صحابہ نے ضرور عمل کیا ہے۔اس تمہید کے بعد اب کی ۱