سیر روحانی — Page 92
۹۲ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ارے! اب بھی ان کو کسی اور جگہ جانے کی ضرورت ہے جب کہ ہم نے انہیں اتنی بڑی تو چیز دیدی ہے جس کی اور کہیں مثال ہی نہیں ملتی۔یعنی ہم نے ایک کتاب اُتار دی ہے اور وہ ایسی کتاب ہے کہ يُتلى عَلَيْهِمْ سمندر کے پاس تو لوگ جاتے ہیں مگر یہ سمندر ایسا ہے کہ آپ تمہارے پاس چل کر آ گیا ہے۔پھر دنیا میں تو لوگ استادوں کے پاس جاتے اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے فلاں بات کس طرح ہے مگر یہاں وہ استاد بھیجا گیا کہ جسے خدا کی طرف سے یہ حکم ہے کہ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ٥٠ تم خود لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں یہ تمام باتیں پہنچاؤ اور یاد رکھو کہ اگر تم نے ان میں سے ایک بات بھی نہ پہنچائی تو ہم کہیں گے کہ تم نے کچھ بھی نہیں پہنچایا گویا ہمارا اُستاد اور ہمارا آقا خود ہمارے گھروں پر چل کر آ گیا ہے، اِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً اگر تم سوچو تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے اپنے رسول کو جو یہ حکم دیا ہے یہ تم پر ہمارا اتنا عظیم الشان انعام ہے جس کی کوئی حد نہیں گویا پنجابی کی وہی مثال یہاں صادق آ رہی ہے کہ چوپڑیاں تے دو دو یعنی روٹیاں چپڑی ہوئی بھی ہوں اور پھر ملیں بھی دو دو تو اور کیا چاہئے۔اللہ تعالیٰ بھی کہتا ہے کہ ہم تمہیں ایک تو چپڑی ہوئی روٹیاں دے رہے ہیں اور پھر دودو دے رہے ہیں ایک تو ہم نے وہ کتاب دی جو ہر طرح کامل و مکمل ہے اور جس کی نظیر کسی اور الہامی کتاب میں نہیں مل سکتی اور پھر اپنے رسول کو یہ حکم دیدیا ہے کہ جاؤ اور ہماری یہ ,, 66 کتاب خود لوگوں کے گھر پہنچ کر انہیں سناؤ اور اس کی تعلیموں سے انہیں آگاہ کرو۔وَ ذِکری۔ایک نعمت تو یہ تھی کہ اتنی عظیم الشان نعمت گھر بیٹھے مل گئی اور دوسری نعمت ہے ہے کہ جو اس کتاب کو مان لیں گے ، دنیا میں ان کی عزت قائم کر دی جائے گی ، بعض لوگ اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں نصیحت کی باتیں ہیں۔یہ معنے بھی درست ہیں مگر اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ جو لوگ اس کتاب پر سچے دل سے ایمان لائیں گے ، ان کا ذکر نیک دنیا میں جاری رہے گا اور کہا جائے گا کہ فلاں نے یہ خدمت کی اور فلاں نے وہ خدمت کی گویا یہ کتاب نہ صرف ذاتی کمالات کے لحاظ سے ایک شرف اور عظمت رکھتی ہے بلکہ جو لوگ اس پر صدق دل سے ایمان لائیں گے وہ بھی دنیا میں معزز اور مکرم ہو جائیں گے۔پھر فرمایا۔وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِى هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ فَا بَي اَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا ل