سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 900

سیر روحانی — Page 84

۸۴ تابع ہے جیسا کہ کچھ عرصہ قبل تک دنیا کا عام خیال تھا۔دوسری بات یہ بتائی ہے کہ نظامِ شمسی ایک اور نظام کے تابع ہے جو اس سے بالا اور وسیع تر ہے۔یہ وہ نکتہ ہے جو قرآن کریم کے زمانہ تک دنیا کے کسی فلسفی یا مذ ہبی شخص نے بیان نہیں کیا تھا بلکہ وہ سب کے سب نظامِ شمسی ہی کو اہم ترین اور آخری نظام سمجھتے تھے مگر قرآن کریم نے آج سے تیرہ سو سال پہلے بتادیا تھا کہ نظامِ شمسی ایک اور نظام کے تابع ہے جو اس سے بالا اور وسیع تر ہے۔فلک کی تشریح اگر کہا جائے کہ پہلے فلاسفروں نے بھی افلاک کے وجود کو تسلیم کیا ہے تو اس کا کی جواب یہ ہے کہ قرآن کریم نے بھی فلک کا وجود تسلیم کیا ہے مگر وہ شے سماء سے جدا ہے فلک در حقیقت نظام شمسی کے پھیلاؤ کا نام ہے اور ان وسعتوں کو کہتے ہیں جن میں شمسی کے افراد چکر لگاتے ہیں۔چنانچہ سورہ انبیاء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَهُوَ الَّذِى نظام خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ " یہی مضمون سوره مینس رکوع ۳ میں بھی آیا ہے۔پس فلک یا افلاک کو تسلیم کر کے یونانی فلاسفر اس نظام سماوی کے قائل نہیں کہلا سکتے جس کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے۔وہ افلاک کے علاوہ اور شے ہے اور نظامِ شمسی کے اوپر کے نظاموں پر دلالت کرتا ہے اور صرف ایک محیط پر دلالت نہیں کرتا جس میں نظامِ شمسی کے افراد چکر لگاتے ہیں۔تیسری بات اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ یہ نظام ہم نے اس لئے بنایا ہے کہ۔اَلَّا تَطْغَوا فِي الْمِيزَانِ وَاقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ - تم میزان میں تعدی سے کام نہ لو اور انصاف کے ساتھ وزن کو قائم رکھو اور وزن میں کوئی کمی نہ کرو۔یا یہ کہ ہم نے تم کو بیان العلوم اس لئے سکھایا ہے کہ تا میزان میں تعدی سے کام نہ لو وغیرہ وغیرہ۔اس میں یہ نکتہ بتایا ہے کہ انسان اُسی وقت ظلم اور زیادتی سے کام لے سکتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو قانونِ عالم سے آزاد سمجھتا ہو لیکن اگر وہ اپنے آپ کو عالم کی مشین کا ایک پرزہ سمجھتا ہو تو کبھی اپنے مقام کو نہیں بھول سکتا۔کیونکہ مشین کا جو پُرزہ اپنی جگہ سے ہل جائے تو وہ تو ٹوٹنے اور کمزور ہو جانے کے خطرہ میں پڑ جاتا ہے یا خود اُس مشین کو توڑ ڈالتا ہے جس کا وہ پرزہ ہوتا ہے۔پس فرماتا ہے کہ نظامِ شمسی انسانی ہدایت کا موجب ہے اور اس کی تأثیرات کو دیکھ کر انسان معلوم کر سکتا ہے کہ میں آزاد نہیں بلکہ ایک نظام کا فرد یا ایک مشین کا پُرزہ ہوں۔پس اگر میں نے دوسرے کل پرزوں کے کام میں دخل دیا اور اُن کے حق کو چھینا چاہایا اپنے کام میں