سیر روحانی — Page 74
۷۴۔تھا۔وہ بالا خانہ پر لیٹے ہوئے تھے انہوں نے نظر جو ماری تو دیکھا کہ ایک کھڑ کی کھلی ہے بس انہوں نے جلدی سے اُٹھ کر کھڑکی میں سے چھلانگ لگا دی جو موٹا پادری تھا وہ پہلے گرا اور جو ڈ بلا پادری تھا وہ اس موٹے پادری کے اوپر آپڑا۔ڈبلے کو تو کوئی چوٹ نہ لگی ، مگر موٹا جو پہلے گرا تھا اس کے پاؤں میں سخت موچ آ گئی اور وہ چلنے کے ناقابل ہو گیا۔یہ دیکھ کر دُبلا پادری فوراً بھاگ کھڑا ہوا اور ساتھی کو کہتا گیا کہ میں علاقہ کے رئیس سے کچھ سپاہی مدد کے لئے لاتا ہوں تم فکر نہ کرو اور اِدھر اُدھر چمٹ کر اپنے آپ کو بچاؤ۔اُدھر موٹے پادری کو یہ فکر ہوا کہ کہیں گھر والے چھری لے کر نہ پہنچ جائیں اور مجھے ذبح نہ کر دیں۔چنانچہ اُس نے آہستہ آہستہ گھٹنا شروع کیا اور گھسٹتے گھسٹتے وہ اُس سورخانہ کے پاس جا پہنچا جس میں میزبان کے سور بند تھے مگر اسے کچھ پتہ نہ تھا کہ اندر سو ر ہیں یا کیا ہے، اُس نے خیال کیا کہ میں یہاں چُھپ کر بیٹھ جاتا ہوں تا کہ گھر والے میرا تعاقب کرتے ہوئے مجھے دیکھ نہ لیں۔جب اُس نے سؤرخانہ کا دروازہ کھولا تو سور ڈر کے مارے نکل بھاگے اور یہ اندر چھپ کر بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ قصاب چُھری لے کے موٹے سور کو ذبح کرنے کے لئے وہاں پہنچ گیا۔پادری نے سمجھا کہ اب میری خیر نہیں یہ ضرور مجھے مار ڈالے گا۔چنانچہ وہ اور زیادہ دبک کر کونے میں چھپ گیا قصاب نے ڈنڈا ہلایا اور کہا نکل نکل ، مگر وہ اور زیادہ سمٹ سمٹا کر ایک طرف ہو گیا وہ حیران ہوا کہ سور نکلتا کیوں نہیں مگر خیر اس نے اور زیادہ زور سے ڈنڈا پھیرا اور آواز دے کر سو ر کو باہر نکالنا چاہا تو اور آخر گھسیٹ کر باہر نکال لیا۔پادری نے سمجھ لیا کہ اب کوئی چارہ نجات کا نہیں اب میرے ذبح ہونے کا وقت آ گیا ہے اور وہ آخری کوشش کے طور پر قصاب کے آگے ہاتھ جوڑ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ میں پادری ہوں میں نے تمہارا کوئی قصور نہیں کیا۔خدا کے لئے معاف کرو۔ادھر قصاب نے جب دیکھا کہ سور کی بجائے اندر سے ایک آدمی نکل آیا ہے تو وہ سخت حیران ہوا اور اس نے سمجھا کہ یہ کوئی فرشتہ ہے جو میری جان نکالنے کے لئے یہاں آیا ہے چنانچہ وہ ڈر کر دوزانو ہو کر اس کے سامنے بیٹھ گیا اور ہاتھ جوڑ کر درخواست کرنے لگ گیا کہ خدا کے لئے مجھ پر رحم کرو ابھی میں مرنے کے قابل نہیں مجھے اپنے کام درست کر لینے دو اور اپنے گنا ہوں سے تائب ہو لینے دو۔اب یہ عجیب نظارہ تھا کہ ایک طرف پادری ہاتھ جوڑے جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ خدا کے لئے مجھ پر رحم کرو اور دوسری طرف وہ قصاب ہاتھ جوڑ رہا تھا اور کہہ رہا تھا خدا کے لئے مجھ پر رحم کرو۔تھوڑی دیر تو وہ اسی طرح ایک دوسرے کی منتیں سماجتیں کرتے رہے اور