سیر روحانی — Page 762
اُن کی شہادت کے بعد اسلام کی طاقت بالکل کمزور ہوگئی۔وہ حقیقت میں اسلام کا آخری تاجدار تھا اور اپنے دل میں اسلام کی ایسی سچی محبت رکھتا تھا کہ جس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔اُس زمانہ میں جب دنیا کی خبریں پہنچنی مشکل تھیں اُس کو پتہ لگا کہ نپولین بہت طاقتور ہو گیا ہے۔اس پر اُس نے نپولین کو لکھا کہ آپ ہندوستان آئیں تو میں اپنی فوجیں لے کر آپ کی مدد کیلئے نکلوں گا تا کہ ہم یہاں پھر اسلام کو قائم کریں مگر نپولین ترکوں کے علاقہ سے گزرسکتا تھا اور ٹرکوں نے اُسے راستہ دینے سے انکار کر دیا اس لئے وہ یہاں آنے سے رہ گیا اور انگریزوں نے اُس پر فتح حاصل کر لی۔اس طرح فرانسیسی جو اُس کے ساتھ تھے ہار گئے۔وہ شخص ایسا بہادر تھا کہ جب انگریز قلعہ کی دیواروں کے اندر داخل ہو گئے تو اُس کا ایک وزیر دوڑتا ہوا اُس کے پاس آیا اور اُس نے کہا فلاں دروازہ سے آپ باہر نکل جائیے ، دشمن قلعے کے اندر داخل ہو گیا ہے لیکن بجائے اس کے کہ وہ اپنی جگہ چھوڑتا اور اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا اُس نے کہا۔میں اُن لوگوں میں سے نہیں جو بھاگ کر اپنی جان بچانا چاہتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ گیدڑ کی ایک سو سال کی زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی زیادہ اچھی ہے۔میں گیدڑ کی طرح بھا گنا نہیں چاہتا بلکہ میں شیر کی طرح مقابلہ کرونگا۔چنانچہ وہ دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گیا۔گویا مسلمانوں کو آخری شکست بھی وہیں ہوئی جس کی وجہ سے اسلام کا نام ہندوستان سے مٹ گیا۔اُس کے مرنے کے بعد مرہٹے بہت طاقت پکڑ گئے اور انہوں نے سارے ملک کو تاخت و تاراج لے کر دیا۔بعد میں احمد شاہ ابدالی نے ایک دفعہ پھر انہیں شکست دی اور اس طرح اسلام کا بجھتا ہو ا چراغ ایک دفعہ پھر ٹمٹما اُٹھا۔مسلمانوں کی تباہ حالی کا شدید صدمہ جیسا کہ میں کئی دفعہ بتا چکا ہوں میں نے اس ملک کا سفر کیا تھا، میرے ساتھ میری ایک بیٹی امتہ القیوم تھیں، ایک میری بیوی مریم صدیقہ تھیں اور ایک میری بہن مبارکہ بیگم تھیں۔ہم کراچی سے بمبئی اور بمبئی سے حیدر آباد گئے اور وہاں ہم نے بہت سے آثار قدیمہ دیکھے۔قلعے بھی دیکھے، لائبریریاں بھی دیکھیں ، مقابر بھی دیکھے، دیوان خاص اور دیوانِ عام بھی دیکھے ، غرض بہت سے آثار قدیمہ ہمارے دیکھنے میں آئے۔جب ہم واپس آئے تو دہلی میں ہم نے باقی آثار دیکھے۔وہاں لال قلعہ بھی دیکھا ، قطب صاحب کا مینار بھی دیکھا، شیر شاہ کی لاٹ بھی دیکھی ، جنتر منتر بھی دیکھا۔ان چیزوں کو دیکھ کر میری طبیعت پر بڑا اثر ہوا کہ