سیر روحانی — Page 683
۶۸۳ گویا دونوں قسم کے نشانات موجود ہیں۔کچھ بستیاں اور قلعے ایسے ہیں جو شہری آبادیوں کے درمیان ہیں تم ان کو تلاش کرو لیکن کچھ ایسی بھی بستیاں نکلیں گی جو بالکل ویران جگہوں پر ہیں۔عاد اور ثمود کے متعلق قرآنی معلومات کا ایک عیسائی محقق کو اعتراف یہ عجیب بات ہے کہ عاد اور ثمود کے متعلق قرآن کریم میں جو ذکر آتا ہے اُس کے متعلق بعض متعصب عیسائی تک تسلیم کرتے ہیں کہ اس سے زیادہ ہمیں اُنکی کوئی حقیقت معلوم نہیں۔چنانچہ جرجی زیدان جیسے سخت متعصب عیسائی نے جغرافیہ عرب پر ایک کتاب لکھی ہے اُس میں وہ لکھتا ہے کہ عاد اور ثمود کے متعلق یونانیوں نے بھی کتابیں لکھی ہیں اور رومیوں نے بھی ان کا بعض جگہ پر ذکر کیا ہے اسی طرح جغرافیہ کے دوسرے ماہرین کا کچھ لڑ پچر بھی موجود ہے مگر سارے لٹریچر پڑھنے کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ عاد اور ثمود کے متعلق جو کچھ قرآن کریم میں لکھا ہے اُس سے ایک لفظ بھی زیادہ ہمیں معلوم نہیں باقی جو کچھ لکھا گیا ہے سب جھوٹ ہے۔عاد اور ثمود کی صحیح تاریخ صرف قرآن کریم سے ملتی ہے۔ان آیات میں صراحتاً جغرافیہ کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ عاد کی بستیاں بعض ایسی جگہوں پر پائی جاتی ہیں جو ویران ہو چکی ہیں اور بعض ایسی جگہوں پر پائی جاتی ہیں جہاں ابھی ویرانی نہیں آئی۔علیم جہاز رانی کی نہر پھر عالم جہاز رانی کی طرف بھی قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے اللہ تعالی فرماتا ہے۔سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِى فِي الْبَحْرِ بِا مُرِهِ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهرَ۔یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کشتیاں مسخر کی ہیں تاکہ وہ خدا کے حکم سے سمندروں میں چلیں اسی طرح اُس نے نہریں مسخر کی ہیں یعنی یہ بھی ایک علم ہے جو تمہارے لئے فائدہ بخش ہے۔تم نہروں کے متعلق دیکھو کہ وہ کس طرح چکر کھاتے ہوئے گزرتی ہیں اور پھر کوئی نہر کسی ایسے سمندر میں جا کر گرتی ہے جہاں سے منزل مقصود بہت دُور ہو جاتی ہے اور کوئی ایسی جگہ سے گزرتی ہے جو منزل کے قریب ہوتی ہے۔مثلاً یورپ میں بعض نہریں ایسی ہیں جو بحیرہ روم میں آکر گر جاتی ہیں اور بعض بحر شمالی میں جاگرتی ہیں۔اگر کوئی بے وقوفی کرے تو اُس نے جہاں جانا ہے اُس سے ہزاروں میل پرے چلا جائیگا۔پس فرماتا ہے اُس کی رفتار اور رخ وغیرہ کو یاد رکھنا