سیر روحانی — Page 682
۶۸۲ بنی نوع انسان کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ فلاں فلاں علم ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔مثلاً پہلے تو اُس نے قانونِ قدرت کی طرف توجہ دلائی۔اس ایک علم کی طرف توجہ دلانے سے ہی اُس نے تمام جادؤوں اور ٹونے ٹوٹکوں کو باطل کر کے رکھ دیا کیونکہ اگر ان فِي خَلْقِ السَّمواتِ وَ الْاَرْضِ والی آیت ٹھیک ہے تو جتنے جادو ٹونے اور ٹوٹکے ہیں تو یہ سب باطل ہو جاتے ہیں۔کیونکہ جادو اور ٹونے ٹوٹکے کے معنے یہ ہیں کہ قانون کوئی نہیں چھومنتر کیا اور بات ہوگئی حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک قانون ہے تم اس کی تلاش کرو اور اس سے فائدہ اُٹھاؤ۔جغرافیہ کی نہر اسی طرح قرآن کریم نے جن علوم کی طرف توجہ دلائی ہے۔اُن میں سے ایک علم جغرافیہ بھی ہے۔اللہ تعالیٰ قوم لوط کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔اِنَّ فِی ذَلِكَ لَآيَتٍ لِلْمُتَوَ سَمِيْنَ وَ إِنَّهَا لَبِسَبِيلٍ مُّقِيمٍ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ کہ ان بستیوں میں سمجھداروں اور عظمندوں کیلئے بڑے نشانات ہیں۔پھر فرماتا ہے کہ یہ بستیاں جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں عرب میں سے گزرنے والے ایک ایسے راستہ پر ہیں جو ہمیشہ جاری رہتا ہے۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اگر انطاکیہ کی طرف قافلے جائیں تو قوم لوط کی بستیاں اُن کے راستہ پر آتی ہیں اور پھر وہ راستہ ایسا ہے جو ہمیشہ آباد رہتا ہے۔بعض رستے ایسے ہوتے ہیں جو کچھ وقتوں میں متروک ہو جاتے ہیں لیکن وہ ایک ایسا راستہ ہے جو ہمیشہ آباد رہتا ہے۔گویا اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جغرافیہ کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ تمام شہروں اور وادیوں پر نشان لگاؤ اور پتہ لگاؤ کہ وہ کہاں کہاں واقع ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے وَ عَادًا وَّ ثَمُودَاً وَقَدْ تَّبَيَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسْكِيهِمْ - ا یعنی عاد اور ثمود میں بھی بڑے بھاری نشانات ہیں۔انہوں نے جو شہر بسائے تھے ان کا تمہیں علم ہے لیکن ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے کہ وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَرُ يَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَاءَ فَتِلْكَ مَسْكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنُ مِنْ بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلاً وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِينَ " یعنی کتنی ہی بستیاں ہیں جو اپنی معیشت پر اترا رہی تھیں مگر ہم نے انکو ہلاک کر دیا سو یہ اُن کے ویران مکانات پڑے ہیں جو اُن کے بعد آباد ہی نہیں ہوئے اور اُن کے بعد ہم ہی اُن کے وارث ہوئے۔