سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 900

سیر روحانی — Page 46

۴۶ آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابھی شکار کرنے کے طریق بھی ایجاد نہ ہوئے تھے اور کھالوں کا استعمال بھی شروع نہ ہوا تھا بلکہ چٹائیاں بطور لباس اور شاید بطور مکان کے استعمال ہوتی تھیں۔اگر شکار کرنے کے طریق ایجاد ہو چکے ہوتے تو وہ کھالوں کا لباس پہنتے۔(1)۔اُن میں تمدنی حکومت قائم کی گئی تھی اور تمدنی حکومت کی غرض یہ بتائی گئی تھی کہ ایک دوسرے کی (۱) کھانے کے معاملہ میں مدد کریں (۲) پینے کے معاملہ میں مدد کریں (۳) عُریانی کو دور کرنے کے معاملہ میں مدد کریں اور (۴) رہائش کے معاملہ میں مدد کریں۔چنانچہ فرمایا۔اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعُرى۔وَأَنَّكَ لَا تَطْمَؤُا فِيهَا وَلَا تَضْحى ٢٣ کہ تمہارے لئے اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ تم جنت میں رہنے کی وجہ سے ٹھو کے نہیں رہو گے ، پیاسے نہیں رہو گے ، نگے نہیں رہو گے اور دُھوپ میں نہیں پھر و گے۔گویا کھانا ، پانی ، کپڑا اور مکان یہ چار چیزیں تمہیں اس تعاونی حکومت میں حاصل ہونگی۔ان الفاظ سے جیسا کہ بعض لوگ غلطی سے سمجھتے ہیں یہ مراد نہیں کہ انہیں بھوک ہی نہیں لگتی تھی کیونکہ اگر انہیں بھوک نہیں لگتی تھی تو وَكُلاَ مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُما " کے کیا معنے ہوئے ، جب خدا نے اُن کی بھوک ہی بند کر لی تھی تو اس کے بعد انہیں یہ کہنا کہ اب خوب کھاؤ پیو بالکل بے معنی تھا۔پس کُملا کے لفظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بھوک لگتی تھی مگر ساتھ ہی انہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔انہیں کہا گیا تھا کہ باغ ساری کمیونٹی کی ملکیت ہے مگر دیکھو قاعدہ کے مطابق کھاؤ پیو۔اگر کسی کو زیادہ ضرورت ہے تو وہ زیادہ لے لے اور اگر کسی کو کم ضرورت ہے تو وہ کم لے لے۔پس إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعُری اُس نئے نظام کی تفصیل ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ قائم کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ اگر اس نئے نظام کے ماتحت رہو گے تو تمہیں ؟ سہولتیں حاصل ہونگی۔( ۷ )۔قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت الہامی طور پر بعض بوٹیوں کے خواص وغیرہ بتائے گئے تھے اور بعض اخلاقی احکام بھی دیئے گئے تھے چنانچہ آیت وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلها ۲۵ اس پر دال ہے مگر یہاں کل کے معنے ضرورت کے مطابق ہیں، جیسا بد بد ملکہ سبا کے متعلق کہتا ہے أُوتِيَتُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ " کہ ملکہ سبا کے پاس سب کچھ موجود ہے حالانکہ جب اُس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس تحفہ بھیجا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اُس