سیر روحانی — Page 614
۶۱۴ گے تو بعض دفعہ تم کو قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا جائے گا۔یہاں تم کو سپاہی دھتکاریں گے نہیں۔یہاں تم مسجد کے قریب آؤ گے تو فرشتے تم کو پکڑ کے خدا کے سامنے پیش کریں گے اور خدا کو تم زندہ دیکھ لو گے۔اس سے زیادہ اچھا موقع تمہیں اور کہاں مل سکتا ہے۔فلاح اور کامیابی کی بشارت پھر فرماتا ہے حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ آو! آو! کامیابی کی طرف آؤ! دوڑ کر کامیابی کی طرف آؤ کہ کامیابی تمہیں ملنے کے لئے تیار بیٹھی ہے۔دیر نہ کرو وہ تڑپ رہی ہے تمہاری جیبوں میں پڑنے کے لئے۔دنیا کے بادشاہوں کے حضور میں لوگ نذرانے گزار نے جاتے ہیں اور اعلان ہوتا ہے سو اشرفیاں پیش کی گئی ہیں۔بیشک پُرانے زمانہ میں بادشاہ کہہ دیتے تھے کہ ان کو بھی دو لیکن بادشاہ کو بہر حال دینا پڑتا تھا۔نظام حیدر آباد تو اس کو لے کے جیب میں ڈال لیتے تھے۔انگلستان وغیرہ کے بادشاہوں کے سامنے بھی نذرانے پیش کئے جاتے ہیں اور جن کے ہاں نذرانوں کا رواج نہیں اُن کے ہاں دعوتیں اُڑائی جاتی ہیں مثلاً پریذیڈنٹ کہیں جائے گا تو بڑی دعوت کی جائے گی بڑے بڑے آدمیوں کو بلا یا جائے گا اور لاکھوں روپیہ خرچ کیا جائے گا۔مگر یہاں وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ اے لوگو! تمہیں صرف زیارت ہی نہیں ہو گی بلکہ تم میں سے ہر فرد واحد امیر ہو یا غریب، کنگال ہو یا حیثیت والا سب کے سب کی گودیاں بھر دی جائیں گی اور یہاں سے تمہیں انعام دے کر واپس کیا جائے گا۔حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ غرض اس دربار میں جانے والا چاہے وہ کتنا ذلیل اور کنگال ہو کہ اُس کی شکل دیکھ کر لوگوں کو گھن آتی ہو جب اُس دربار میں چلا جاتا ہے تو وہاں وہ ایسا مقبول ہو جاتا ہے کہ بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اُس کے آگے سر جھکانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی تھے بہت بدصورت، نہایت کر یہہ اور جسم پر بڑے بڑے بال جیسے بکری کے ہوتے ہیں اور آنکھیں بھی خراب۔غرض اُن ایک کر یہ المنظر صحابی سے پیار سے جسم کی حالت ایسی تھی جسے دیکھ کر بھن تی تھی اور لوگ انہیں مزدوری پر لگانے سے بھی گھن کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں سے گزرے اور اُسکو دیکھا۔کسی نے اُن کو گندم کے ڈھیر کے پاس کھڑا کر دیا تھا کہ تم ذرا