سیر روحانی — Page 603
۶۰۳ بھی ٹھیک ہے۔کہنے لگے جن کا لجوں میں وہ پڑھے ہیں انہی کالجوں میں ہم بھی پڑھتے ہیں ہمیں اُن یر علمی رنگ میں کوئی برتری حاصل نہیں۔میں نے کہا یہ بھی ٹھیک ہے۔کہنے لگے پھر جب ہماری فوج کم ہے اور اُنکی زیادہ ہے، گولہ بارود اُن کے پاس زیادہ ہے، تو ہیں اُن کے پاس زیادہ ہیں، ہوائی جہاز اُن کے پاس زیادہ ہیں، آمد ان کی زیادہ ہے اور ہم بھی انہی کالجوں میں پڑھے ہوئے ہیں جن میں وہ پڑھے ہیں، ہمارے اندر کوئی خاص لیاقت نہیں تو پھر آپ نے کس بناء پر ہمیں کہا تھا کہ ہمیں کشمیر لینا چاہئے؟ میں نے کہا دیکھو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كَمُ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةً بِاِذْنِ اللهِ کہ کئی چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی جماعتوں پر غالب آجایا کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ بات اسی لئے بیان فرمائی ہے کہ تم تھوڑے اور کمزور ہو کر ڈرا نہ کرو۔خدا تعالیٰ طاقت رکھتا ہے کہ تمہیں بڑوں پر غلبہ دے دے اسلئے آپ گھبراتے کیوں ہیں؟ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھیئے۔بے شک آپ تھوڑے ہیں لیکن خدا تعالیٰ آپ کو طاقت دیگا۔پھر میں نے کہا۔میں تم کو ایک موٹی بات بتا تا ہوں تم مسلمان ہو کیا تمہیں معلوم ہے یا نہیں قرآن نے یہ کہا ہے کہ اگر تم مارے گئے تو جنت میں جاؤ گئے۔کہنے لگا۔جی ہاں! میں نے کہا اب دو ہی صورتیں ہیں کہ اگر تم میدان میں کھڑے رہو گے اور زندہ رہو گے تو جیت جاؤ گے اور اگر مارے جاؤ گے تو جنت میں چلے جاؤ گے اب بتاؤ کیا تمہارے اندر مرنے کا کوئی ڈر ہو سکتا ہے؟ کیونکہ تم سمجھتے ہو کہ اگر میں لڑائی کے میدان میں کھڑا رہا اور لڑتا رہا تو دو ہی صورتیں ہیں یا جیت جاؤں گا یا جنت میں چلا جاؤنگا۔پس تمہاری بہادری کا ہندو کس طرح مقابلہ کر سکتا ہے وہ تو یہ جانتا ہے کہ اگر میں مر گیا تو بندر بن جاؤنگا یا سور بن جاؤنگا یا کتا بن جاؤنگا۔یہ اُس کا تناسخ ہے۔تم تو یہ جانتے ہو کہ مر کے جنت میں چلے جائیں گے اور وہ یہ جانتا ہے کہ مرکے گتا بن جاؤ نگا ، سور بن جاؤنگا ، بندر بن جاؤ نگا۔تو مسلمان اور ہندو کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہو سکتا۔اُسے تو کتا یا سور بننے کا ڈر لگا ہوا ہے اور تم میں جنت جانے کا شوق ہے تمہارا اور اُس کا مقابلہ کیسے ہو سکتا ہے۔تو حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کیلئے دلیری کے اتنے مواقع پیدا کر دیئے گئے ہیں کہ اُسکو کوئی گزند آ ہی نہیں سکتی۔اس کے بعد فرماتا ہے۔فَالْمُورِيتِ قَدْحًا مُورِی کے معنے آگ نکالنے کے ہوتے ہیں اور قَدْحًا کے معنے ہوتے ہیں مارکر۔پس فَالْمُورِيتِ قَدْحًا کے یہ معنے ہوئے کہ وہ ایک چیز کو دوسری سے مار کر آگ جلاتے ہیں۔جیسا کہ پہلے زمانہ میں لوگ چقماق سے آگ جلایا