سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 602 of 900

سیر روحانی — Page 602

۶۰۲ وہ اس کے مقابلہ میں کا فر کو کیا اُمید ہو سکتی ہے اُس کے لئے بھا گنا تو مجرم ہے ہی نہیں۔ہمارے ہاں تو یہ ہے کہ بھا گو گے تو جہنم میں جاؤ گے اس لئے مسلمان تو بھاگ سکتا ہی نہیں آخر وقت تک کھڑا رہے گا۔اس کے لئے صرف دو ہی صورتیں ہیں تیسری کوئی صورت نہیں۔یا تو وہ مر جائے گا اور یا جیت جائے گا اور دونوں اُس کے لئے اچھی باتیں ہیں۔جیتے گا تو جیت گیا اور مرے گا تو جنت میں جائے گا۔اور کافر یا تو مر گیا اور دوزخ جائے گا اور یا بھاگے گا اور شکست کھائے گا۔اور جسے ایک طرف اپنی شکست کا خطرہ ہو اور دوسری طرف موت کا اُس سے بہادری کب ظاہر ہوسکتی ہے۔تین چار سال کی بات ہے میں کو ئٹہ گیا تو وہاں کوئٹہ میں ایک فوجی افسر سے ملاقات مجھے کچھ فوجی افسر ملنے آئے۔اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں اِسی دوران میں کشمیر کا بھی ذکر آ گیا میں نے کہا کشمیر مسلمانوں کو ضرور ملنا چاہئے ورنہ اس کے بغیر پاکستان محفوظ نہیں رہ سکتا۔دوسرے دن میرے پرائیویٹ سیکرٹری نے مجھے لکھا کہ فلاں کرنیل صاحب آپ سے ملنے کے لئے آئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ میں نے الگ بات کرنی ہے۔میں نے اُن کو لکھا کہ آپ کو کوئی غلطی تو نہیں لگی یہ تو گل مجھے مل کر گئے ہیں۔انہوں نے کہا یہ بات تو درست ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک پرائیویٹ بات کرنی ہے۔میں نے کہا لے آؤ چنا نچہ وہ آگئے۔میں نے کہا فرمائیے آپ نے کوئی الگ بات کرنی تھی۔کہنے لگے جی ہاں۔میں نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگے آپ نے کہا تھا کہ ہمیں کشمیر لینا چاہئے اور اس کے لئے ہمیں قربانی کرنی چاہئے یہ بات آپ نے کس بناء پر کہی تھی؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہندوستان کے پاس فوج زیادہ ہے؟ میں نے کہا میں خوب جانتا ہوں کہ اُس کے پاس فوج زیادہ ہے۔کہنے لگے تو کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ جو بندوقیں ہمارے پاس ہیں وہی اُن کے پاس ہیں؟ میں نے کہا ٹھیک ہے۔کہنے لگے کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اُن کے پاس ڈم ڈم کی فیکٹری ہے جو ہزاروں ہزار بندوق اُن کو ہر مہینے تیار کر کے دے دیتی ہے؟ میں نے کہا۔ٹھیک ہے۔کہنے لگے کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اُن کے پاس اتنا گولہ بارود ہے اور آٹھ کروڑ کا گولہ بارود جو ہمارا حصہ تھا وہ بھی انہوں نے ہم کو نہیں دیا۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔کہنے لگے آپ کو معلوم نہیں کہ اُن کے ہاں ہوائی جہازوں کے چھ سکوارڈن ہیں اور ہمارے ہاں صرف دو ہیں۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔کہنے لگے اُن کی اتنی آمد ہے اور ہماری اتنی آمد ہے۔میں نے کہا یہ