سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 900

سیر روحانی — Page 601

۶۰۱ إحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ " یعنی تم جو ہم سے دشمنی کرتے ہو اور ہم پر حملے کرتے ہو تو یہ بتاؤ کہ تمہیں ہمارے متعلق کیا امید ہے؟ دو ہی چیزیں ہماری ہیں تیسری تو ہو نہیں سکتی۔یا تو یہ کہ ہم زندہ رہیں تو جیت جائیں اور یا ہم مارے جائیں اور جنت میں چلے جائیں۔ان دونوں میں سے کونسی چیز ہمارے لئے نقصان دہ ہے۔آیا ہما را جیت جانا ہمارے لئے نقصان دہ ہے یا ہمارا جنت میں چلے جانا ، دونوں ہمارے لئے برابر ہیں۔ہم زندہ رہے تو فتح حاصل کریں گے اور اگر مر گئے تو جنت میں جائیں گے۔پس تم تو جو بھی ہمارے متعلق خواہش رکھتے ہو وہ ہمارے لئے اچھی ہے۔تم کہتے ہو مر جاؤ حالانکہ اگر ہم مر گئے تو ہم جنت میں چلے جائیں گے۔چنانچہ ایک صحابی کے متعلق آتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک صحابی کا بیان کہ اُسے اسلام میں آخر میں مسلمان ہوا تھا اور میرے مسلمان قبول کرنے کی کیسے تحریک ہوئی؟ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ میں ایک جگہ ایک قبیلہ میں مہمان تھا۔انہوں نے کہا ہم نے کچھ مسلمان گھیرے ہیں چلو تم بھی لڑائی میں شامل ہو جاؤ۔مجھے اُس وقت مسلمانوں کا کچھ پتہ نہیں تھا۔میں اپنے دوستوں کی خاطر چلا گیا۔وہاں انہوں نے ایک صحابی کو نیچے اُتارا اور اُس کے سینہ میں نیزہ مارا۔جب نیزہ مارا گیا تو اُس نے کہا فُزُتْ وَرَبِّ الْكَعْبَة " مجھے کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔کہنے لگا میں سخت حیران ہوا۔مجھے مسلمانوں کے متعلق کچھ پتہ نہیں تھا۔میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ کوئی پاگل تھا کہ تم نے اس کو نیزہ مارا اور یہ گھر سے دُور بے وطنی میں اور اپنے رشتہ داروں سے الگ بجائے اس کے کہ روتا چلاتا یہ کہتا ہے کہ میں کامیاب ہو گیا۔کامیابی اس نے کونسی دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا مسلمان پاگل ہی ہوتے ہیں۔یہ سمجھتے ہیں کہ موت میں بڑی خوبی ہے۔جب انہیں مارا جائے تو کہتے ہیں ہم کا میاب ہو گئے۔وہ کہتا ہے میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسی قوم کو تو دیکھنا چاہئے چنانچہ میں چوری چوری نکلا اور مدینہ گیا۔وہاں دو تین دن رہنے کے بعد اسلام کی صداقت ثابت ہوگئی اور میں مسلمان ہو گیا۔پھر انہوں نے گرتہ اُٹھایا اور کہنے لگا دیکھو! میرے بال کھڑے ہیں میں جب بھی یہ واقعہ یاد کرتا ہوں تو بال کھڑے ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ ایسا نظارہ تھا کہ جنگل میں ایک شخص اپنے وطن سے دُور فریب اور دھوکا بازی سے مارا گیا مگر بجائے اس کے کہ وہ غم کرتا روتا اور اپنے بیوی بچوں کو یاد کرتا ا وطن کو یاد کرتا وہ کہتا ہے فُزُتْ وَرَبِّ الْكَعْبَة۔کعبہ کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔