سیر روحانی — Page 599
۵۹۹ حملہ کر دیا اور اس بے جگری سے لڑے جب ایک ہاتھ کاٹا گیا تو دوسرے ہاتھ سے تلوار پکڑ لی، دوسرا ہاتھ کاٹا گیا تو منہ میں تلوار پکڑ کر جنگ کرنی شروع کی۔جب انہوں نے منہ بھی زخمی کر کے خود وغیرہ کاٹ دی تو لاتیں ہی مارنی شروع کر دیں، آخر انہوں نے ٹانگیں بھی کاٹ دیں۔جنگ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کی بہن سے پتہ لگا کہ وہ رہ گئے ہیں تو آپ نے فرمایا اُن کی تلاش کرو۔صحابہ تلاش کرنے گئے تو انہوں نے کہا ہم نے کہیں اُن کی لاش نہیں دیکھی۔بہن نے کہا وہ وہاں گئے ہیں اور اس نیت سے گئے ہیں کہ میں وہاں شہادت حاصل کرونگا اور کہیں وہ نہیں دیکھے گئے ضرور وہیں ہو نگے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے ضرور ہونگے تم جاؤ اور تلاش کرو۔چنانچہ وہ پھر گئے اور سب جگہ تلاش کرتے رہے کہنے لگے۔يَا رَسُولَ اللهِ ! اور تو کہیں پتہ نہیں لگتا ایک لاش کے ستر ٹکڑے ہم کو ملے ہیں وہ اگر ہو تو ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی بہن کو کہا کہ جاؤ اور دیکھو۔اُن کی ایک اُنگلی پر نشان تھا۔بہن نے اُسے پہچان کر کہا ہاں! یہ میرے بھائی کی لاش ہے۔یہ کتنا عظیم الشان بہادری کا مقام ہے اور کتنی بڑی قربانی ہے۔کیا دنیا کی کوئی تاریخ اس قسم کی مثال پیش کر سکتی ہے۔لشکر شکست کھاتے ہیں تو بھاگتے ہوئے سانس بھی نہیں لیتے پھر ہارتے ہیں تو دل کی ٹوٹ جاتا ہے مگر عمر جیسا بہادر روتا ہے تو وہ کہتا ہے یہ کیا بیہودہ بات ہے۔کیا تم اس لئے روتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو ہم نے اس دنیا میں رہ کر کیا لینا ہے۔سورۃ العدیت کی لطیف تفسیر پھر نوبت بجا کر سوار تو سوار گھوڑوں میں بھی جوش پیدا کیا جاتا تھا۔اسی طرح اس نوبت خانہ سے بھی کام لیا گیا ہے۔ہے۔فرماتا ہے وَالعَدِيتِ ضَبْحَاهُ فَالْمُؤرِيتِ قَدْ حا ل فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحَاةٌ فَاثَرْنَ بِهِ نَقُعًا لا فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا ال ان آیات میں اللہ تعالیٰ اسلامی لشکر کے متعلق یہ بیان فرماتا ہے کہ وہ کس شکل اور شان سے مخالفین کے مقابل پر نکلے گا۔فرماتا ہے۔وَالْعدِیتِ ضَبُحًا۔عادی کے معنے ہوتے ہیں دوڑنے والا اور صبح گھوڑے کی دوڑوں میں سے ایک خاص دوڑ کا نام ہے جس میں گھوڑا سرپٹ دوڑ پڑتا ہے پس وَ الْعَدِیتِ ضَبُحًا کے یہ معنے ہوئے کہ ہم اُن گھوڑوں کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو دوڑتے وقت صبح چال اختیار کرتے ہیں۔یعنی شدت جوش سے سر پر