سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 900

سیر روحانی — Page 595

۵۹۵ اسلام کہتا ہے کہ ڈرا نا نہیں۔ہی نظر آتی ہے۔ہماری نانی اماں سنایا ای ایام غدر میں انگریز افسروں کی بربریت غدر کے واقعات دیکھ لو وہاں بھی تخویف کرتی تھیں کہ غدر کے وقت میں چھوٹی تھی۔میرے والد بیمار ہو گئے فوج میں ملازم تھے لیکن اُن دنوں بیمار تھے اور ڈیڑھ ماہ سے چار پائی سے نہیں اُٹھے تھے میری پانچ چھ سال کی عمر تھی ، ہلدی کی طرح اُن کی شکل ہو گئی تھی چار پائی پر پڑے تھے۔جب انگریز فوج آئی یکدم سپاہی اور انگریز افسر اندر آئے اور وہ اسی طرح گھروں میں گھتے تھے ساتھ کچھ ہندوستانی جاسوس لئے ہوئے تھے افسر نے کہا یہاں کوئی ہے؟ انہوں نے میرے باپ کی طرف اُنگلی اُٹھائی کہ یہ کی بھی لڑائی میں شامل تھا۔انہوں نے کہا میں تو بیمار پڑا ہوں کہیں گیا ہی نہیں اس پر افسر نے پستول نکالا اور اُسی وقت انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صحابی پر شدید ناراضگی لیکن وہاں یہ حکم ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عزیز اور آپ کا ایک مقرب صحابی ایک جنگ پر جاتا ہے اور جب وہ ایک شخص کو مارنے لگتا ہے تو وہ کہتا ہے صَبَوت میں صابی ہو گیا ہوں۔وہ لوگ اسلام کا نام نہیں جانتے تھے اور مسلمانوں کو صابی کہتے تھے۔صبوت کا یہ مطلب تھا کہ میں مسلمان ہوتا ہوں۔غرض وہ اسلام سے اتنا نا واقف تھا کہ نام بھی نہیں جانتا تھا۔کہنے لگا صَبَوت۔مگر انہوں نے اُس کو مار ڈالا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا۔تم نے اُسے کیوں مارا۔انہوں نے کہا۔يَا رَسُولَ اللهِ ! اُسے تو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اسلام کیا ہوتا ہے۔اُس نے تو صرف اتنا کہا تھا کہ صَبَوُتُ۔آپ نے فرمایا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا اسکو نہیں پتہ تھا کہ اسلام کا نام کیا ہے لیکن اس کا مطلب تو یہی تھا کہ میں اسلام میں داخل ہوتا ہوں۔تم نے اس کو کیوں مارا؟ انہوں نے کہا۔يَا رَسُولَ اللهِ! میں نے مارا اس لئے کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا۔آپ نے فرمایا۔نہیں۔پھر آپ نے فرمایا تو قیامت کے دن کیا کرے گا جب خدا تجھ سے کہے گا کہ اس شخص نے یہ کہا اور پھر بھی تو نے اُسے قتل کر دیا۔اسامہ آپ کے نہایت ہی محبوب تھے۔وہ کہتے ہیں میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نا راضگی کو دیکھ کر اپنے دل میں کہا۔اے کاش ! میں اس سے پہلے کا فر ہوتا اور آج میں