سیر روحانی — Page 588
۵۸۸ جب حکومت کا معاملہ آتا ہے تو وہ کہ دیتے ہیں یہ تو ڈپلومیسی تھی اس سے جھوٹ کا کیا تعلق ہے یہ تو اپنے ملک کی خاطر ایسا کیا گیا ہے۔اُنکی تاریخوں میں صفحے کے صفحے ایسے نکلیں گے جن میں یہ ذکر ہو گا کہ میں نے فلاں وقت یہ جھوٹ بولا ہمیں نے فلاں وقت یہ جھوٹ بولا اور اس پر فخر کریں گے۔غرض وہ سمجھتے ہیں کہ اخلاق صرف افراد کیلئے ہیں حکومت کیلئے نہیں لیکن قرآن کہتا ہے کہ قوموں کے لئے بھی اخلاق ہیں، حکومت کیلئے بھی اخلاق ہیں اور افراد کیلئے بھی اخلاق ہیں۔اگر افراد چاہتے ہیں کہ اُنکے اخلاق درست رہیں، اگر قوم چاہتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں مقبول ہو تو اُسے قومی اور سیاسی طور پر بھی سچ بولنا پڑے گا۔اُسے قومی اور سیاسی طور پر بھی انصاف کرنا پڑے گا، اُسے قومی اور سیاسی طور پر بھی قوموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا پڑے گا۔اور اگر افراد چاہتے ہیں کہ اُن کے ملک محفوظ رہیں اور اُن کی عزت قائم رہے تو انہیں انفرادی حقوق کے علاوہ قومی طور پر بھی حقوق ادا کرنے پڑیں گے۔تو یہ نمایاں فرق ہے اسلام میں اور دوسرے مذاہب میں۔دوسرے مذاہب میں یہ بات نہیں۔ابھی حال میں ایک سیاسی لیڈر نے کسی جگہ پر بیان دیا ہے کہ یہ عجیب بات ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ سیاسی لیڈروں کو جھوٹ بولنے کا حق ہے اور جب یہ کہا جاتا ہے تو علماء کو بھی یہ حق کیوں نہیں دیا جاتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے لڑائیوں کے بارہ میں تفصیلی احکام اس عظیم کی جو ترین فرمائی ہے دو ۴۵ اُن احکام سے ظاہر ہے جو آپ اُسوقت دیتے تھے جب آپ کسی کو کمانڈر بنا کر جنگ پر بھجواتے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو جنگ پر بھیجتے تھے تو آپ اُسے نصیحت فرماتے تھے کہ تقویٰ اللہ اختیار کرو اور مسلمانوں کے ساتھ نیک سلوک کرو اور فرماتے ت اغْرُوا بِاسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ وفِي سَبِيلِ الله الله کا نام لیکر اللہ کی خاطر جنگ کیلئے جاؤ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللهِ " جو شخص اللہ کا کفر کرتا ہے اُس سے لڑو۔اس کے یہ معنے نہیں جس طرح بعض علماء غلط طور پر لیتے ہیں کہ تم کافروں سے لڑو بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے تم سے لڑائی کی ہے اگر وہ مسلمان ہو جائے تو اُس سے لڑائی جائز نہیں۔لڑائی کیلئے تو حکم ہے کہ أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ یعنی جنگ کے لئے نکلنے کی تب اجازت دی گئی ہے جب تم۔لڑائی کی جائے۔اس لئے كَفَرَ بِاللہ اس کے بعد جا کر لگے گا۔اگر کسی شخص نے لڑائی شروع کر دی مگر جب تمہارا لشکر پہنچا تو اس نے اسلام کا اعلان کر دیا تو وہ ظلم ختم ہو گیا اب تم کو