سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 900

سیر روحانی — Page 543

۵۴۳ اس کے کہ کوئی معاہدہ توڑے۔اگر کوئی معاہدہ تو ڑ کر اپنے مد مقابل سے یا اُس کے حلیف سے مقابلہ کرے تو پھر اُس سے لڑائی کی اجازت ہو گی اسی طرح کچھ اور شرطیں طے ہوئیں۔اے دشمن کی معاہدہ شکنی کی خبر جب یہ شرطیں طے ہو گئیں تو اب گو یا آئندہ دس سال کیلئے جنگ بند ہوگئی۔اب جنگ کی صرف ایک ہی صورت باقی تھی اور وہ یہ کہ مکہ والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے حلیفوں پر حملہ کر دیں کیونکہ مسلمان کو تو حکم ہے کہ بہر حال تم نے اپنا عہد پورا کرنا ہے۔اس معاہدہ کے بعد نا ممکن تھا کہ مسلمان لڑائی کر سکیں۔صرف ایک ہی صورت باقی تھی کہ مکہ والے محمد رسول اللہ پر حملہ کر دیں یا آپ کے حلیفوں پر حملہ کر دیں اسکے بغیر لڑائی نہیں ہو سکتی تھی۔گویا اب لڑائی کا اختیار دشمن کے ہاتھ میں چلا گیا مؤمنوں کے ہاتھ میں نہ رہا۔ایسی صورت میں جب لڑائی کا اختیار دشمن کے ہاتھ میں تھا جب یہ پتہ لگنے کی کوئی صورت ہی نہیں تھی کہ دشمن کی فوجیں اسلامی نظام کے دائرہ میں داخل ہو جائیں گی کیونکہ فیصلہ تو اُس نے کرنا تھا مسلمانوں نے نہیں کرنا تھا اُس وقت جب صلح حدیبیہ کر کے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم واپس آ رہے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو خبر دی گئی کہ دشمن معاہدہ توڑے گا اور ہم تم کو اُن پر قبضہ دیں گے۔گویا پھر قریباً ڈیڑھ سال پہلے خبر مل گئی کہ دشمن کی فوجیں تمہارے ملک میں داخل ہو جا ئینگی چنا نچہ آپ کو الہام ہوا ! إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيناً - لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَ نُبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَّ يَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا " یعنی اے محمد رسول اللہ! ہم تجھ کو ایک عظیم الشان فتح کی خبر دے رہے ہیں۔وہ ایک ایسی فتح ہوگی جو اپنی ذات میں اس بات کی گواہ ہو گی کہ تو سچا ہے اور پھر وہ فتح مبین ہو گی۔بعض نشانات تو ہوتے ہیں مگر اُن سے نتیجہ نکالنا اور استنباط کرنا پڑتا ہے لیکن وہ فتح ایسی ہوگی کہ استنباط کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ وہ خود اپنی ذات میں تیری صداقت کا ایک زندہ ثبوت ہوگی۔لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ اور یہ فتح ہم تجھے اس لئے دیں گے تاکہ تیری جنگ جوعربوں سے چلی آرہی ہے اُس میں بعض باتیں کرنے والی تھیں جو تو نے نہیں کیں اور بعض غلطیاں تم سے ایسی ہو ئیں جو نہیں ہونی چاہئے تھیں اور تم نے کر لیں۔مثلاً بعض جگہ عفو نہیں کرنا چاہئے تھا مگر عفو کر دیا۔بعض جگہ معاف کرنا چاہئے تھا مگر صحابہ کو خیال نہیں آیا اور انہوں نے معاف نہیں کیا مثلاً محرم الحرام میں جا کر مسلمان لڑپڑے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خفا ہوئے