سیر روحانی — Page 32
۳۲ کرتی رہیں گی۔کبھی شیطان کی نسل آدم کی نسل ہو جائے گی اور کبھی آدم کی نسل شیطان کی نسل ہو جائے گی کیونکہ ابلیس اور نسل ابلیس کے لئے اس آیت سے ایمان لا ناممکن ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر ان کا ایمان لا ناممکن ہی نہ ہوتا تو ان کی طرف ہدایت کے آنے کے کوئی معنے نہ تھے۔پھر سورہ اعراف میں اس مضمون کے بعد یہاں تک بیان فرمایا ہے کہ اے آدم کی نسل اور اے ابلیس کی نسل ! فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَاتَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ " تم دونوں اسی زمین کے اندر زندہ رہو گے، یہیں مرو گے اور اسی زمین سے تمہارا حشر ہو گا یعنی بنو آدم کے ساتھ ابلیس اور اس کے ساتھی نہ صرف رہیں گے بلکہ بنو آدم کی طرح زمین پر زندگی بسر کریں گے، انہی کی طرح مریں گے اور زمین میں دفن ہونگے اور پھر انہی کی طرح ان کا قبور سے حشر ہو گا پس معلوم ہو ا کہ یہ جن کسی اور جنس کے لوگ نہیں بلکہ نسلاً یہ لوگ وہی ہیں جو بنو آدم ہیں کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ صاف بتا دیا ہے کہ جس طرح آدم کی نسل زمین میں زندہ رہے گی اسی طرح ابلیس اور اس کی نسل زمین میں زندہ رہے گی ، جس طرح آدم کی نسل کھائے پئے گی اسی طرح ابلیس کی نسل کھائے بیٹے گی۔جس طرح آدم کی نسل مرے گی اور زمین میں دفن ہوگی اسی طرح ابلیس کی نسل مرے گی اور زمین میں دفن ہو گی۔اور پھر یہ بھی بتا دیا کہ جب ہمارے انبیاء آئیں گے تو وہ ان دونوں کو مخاطب کرینگے ، پھر جو لوگ انہیں مان لیں گے وہ آدم کی حقیقی اولاد کہلائیں گے اور جو لوگ نہیں مانیں گے وہ ابلیس بن جائیں گے پس معلوم ہو ا کہ آدم کے مقابلہ میں جو لوگ تھے خواہ انہیں ابلیس اور نسل ابلیس کہہ لو اور خواہ جن کہ لو بہر حال جنس کے لحاظ سے وہ بشر ہی تھے۔فرق صرف اخلاق ، تمدن ، اور شریعت کا تھا جس کی وجہ سے ان دونوں میں آپس میں امتیاز کر دیا گیا۔آدم اور جن کی بجائے انہیں مؤمن اور کافر کیوں نہ کہا گیا اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان ناموں سے انہیں یاد کیوں کیا ؟ کیوں سیدھے سادھے الفاظ میں انہیں کافر اور مؤمن نہیں کہہ دیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ لوگوں کے لئے سیدھا سادہ لفظ کا فر اور مؤمن ہے اور ان کے لئے سیدھا سادہ لفظ آدم اور ابلیس یا انس اور جن تھا۔آج انسان کا دماغ اس قدر ترقی کر چکا ہے کہ وہ شریعت کے باریک دربار یک مسائل کو سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے ، مگر آدم کے زمانہ میں جو شریعت آئی اس کا تعلق صرف تمدن اور رہائش انسانی کے ساتھ تھا اور اس وقت کے